خرید بک لینک

باغ فدک کی حقیقت صحیحین کی روشنی میں..
جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فدک اور اپنے دوسرے حقوق کا خلیفہ اول سے مطالبہ کیا..جب منظور نہ ہوا تو ناراض ہوکر مکمل بائیکاٹ کی حالت میں اپنے بابا سے ملاقات کرنے گئیں...مولا علی علیہ السلام کے سامنے جب حدیث" نحن معاشر الانبیاء لا نورث ۔۔۔۔۔" سے استدلال کیا تو آپ نے خلیفہ اول اور پھر خلیفہ دوم کو جھوٹا .دھوکہ باز خائن گناہ گار ،بعض روایات کے مطابق ،ظالم ، جابر اور فاجر سمجھا ... کیا یہ باتیں صحیحین میں ہیں یا نہیں ، کیا یہ باتیں صحیح سند کے ساتھ صحاح ستہ میں نقل ہوئی ہیں یا نہیں ..??
کیا صحیحین کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ کے بعد جناب ابوبکر نے فدک وغیرہ پر قبضہ کیا یا نہیں کیا ؟
آگر ان چیزوں کا انکار کرتے ہو تو ہم ثابت کر دیں گے۔ اگر اقرار کرتے ہو تو زبان درازی اور دھوکہ بازی سے کام لینا چھوڑ دو...اپنی کتابوں میں موجود باتوں کو شیعوں کی باتیں کہہ کر شیعوں کے خلاف تبلیغ کے ظالمانہ کا سلسلہ چھوڑ دو ۔....
جی ہاں : ہم ان سارے معاملات میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب اور جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہما کو حق بجانب سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ ہم عقیدہ ہیں ۔اس پر ہم فخر کرتے ہیں ۔
کیا آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کسی اور کے حق پر ڈاکہ ڈالنے گئی تھیں ؟ {نعوذ بااللہ ۔} کیا وہ اپنا حق سمجھ کر ان چیزوں کا مطالبہ نہیں کر رہی تھیں۔؟
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے ممتاز شاگردوں کے مطالبے اور نظریے کو باطل سمجھتے ہو ؟
کیا جناب فاطمہ اور مولا علی کے ساتھ ہم عقیدہ ہونے کو جرم سمجھتے ہو؟
دیکھیں آپ کی ہی معتبر اور صحیح سند کتابوں میں سے خاص کر صحیحین کی روایات اور ہماری باتوں کی سند ۔
اسناد : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا موقف اور سخت رد وعمل
1 -
فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ۔۔۔۔۔۔
مطالبہ منظور نہ ہونے پر جناب فاطمہ خلیفہ کے پاس سے چلی گئیں اور خلیفہ سے کلام کرنا چھوڑ دیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ
أَنَّ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَيْهِمَا مِنْ فَدَكَ وَسَهْمَهُمَا مِنْ خَيْبَرَ فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ قَالَ فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ۔۔۔۔
۔ اس پر فاطمہ ع نے تعلق کاٹ لیا اور موت تک ان سے کلام نہیں کیا ۔۔
صحيح البخاري ۔کتاب فرائض ۔۔۔۔ بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ ص لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ۔۔ 6230
2۔۔۔۔:
فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ۔۔۔۔ فَهَجَرَتْ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غضبناک ہو کر چلی گئیں اور مرتے دم تک مکمل بائیکاٹ کی حالت میں رہیں ۔
-فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتَهُ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ وَقَالَ لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ فَإِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكٌ فَأَمْسَكَهَا عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ قَالَ فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ اعْتَرَاكَ افْتَعَلْتَ مِنْ عَرَوْتُهُ فَأَصَبْتُهُ وَمِنْهُ يَعْرُوهُ وَاعْتَرَانِي
صحيح البخاري ۔۔ کتاب خمس ۔۔۔ 1 - باب فرض الخمس 2926
3 :
فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ۔
ناراض ہوگئیں اور وہاں سے چلی گئیں اور آخر عمر تک خلیفہ سے بات تک نہیں کی یہاں تک کہ نماز میں بھی شرکت کی اجازت نہیں دی ۔
- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ
أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنْ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرَ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ لَا ۔۔۔۔۔
صحيح البخاري (13/ 135): کتاب المغازی ۔۔ بَاب غَزْوَةِ خَيْبَرَ۔۔۔۔۔۔
صحیح مسلم ۔۔ - كتاب الجهاد والسير - باب قول النبي ص ( لا نورث ما تركنا فهو صدقة )
4
وَاللَّهِ لاَ أُكَلِّمُكُمَا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات نہ کرنے کی قسم کھائی
اللہ کی قسم میں تم دونوں سے بات نہیں کروں گی
1609- حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، تَسْأَلُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالاَ: سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنِّي لاَ أُورَثُ، قَالَتْ: وَاللَّهِ لاَ أُكَلِّمُكُمَا أَبَدًا، فَمَاتَتْ وَلاَ تُكَلِّمُهُمَ
سنن الترمذي ) أَبْوَابُ السِّيَرِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : 44- بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرِكَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔
نوٹ : خود امام ترمذی نے اس بات نہ کرنے کو ان کی طرف سے خلیفہ کی بات کو قبول کرنے کا معنی کیا ہے ۔۔۔جبکہ یہ اس سلسلے کی دوسری روایات کے خلاف معنی ہے ۔۔ حتی ترمذی کی دوسری روایات کے بھی خلاف ہے ۔۔۔
5 :
قبضہ کرنا
فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ۔۔۔۔ فدک وغیرہ کو خلیفہ نے رسول اللہ ص کے بعد اپنے قبضے میں لیا
- فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ يَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَنْتُمَا حِينَئِذٍ - وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِىٍّ وَعَبَّاسٍ - تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَذَا وَكَذَا ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ، ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَبِى بَكْرٍ ، فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ
امیر المومنین علیہ السلام کا سخت موقف ۔۔۔۔
خلیفہ دوم خود ہی امیر المومنین علیہ السلام کا جناب ابوبکر اور اپنے بارے میں سخت موقف کا اعتراف کر رہا ہے ۔۔
جیساکہ جناب امیر المومنین ع نے بھی خلیفہ کے اس اعتراف کو رد نہیں کیا ۔۔۔۔۔ یہ نہیں فرمایا : استغفر اللہ جناب آپ مجھ پر خلیفہ اول اور اپنے کو جھوٹا ، خائن ، دھوکہ باز ، گناہ گار، ظالم ،جابر فاجر کہنے کا الزام لگا رہے ہو میں نے تو ایسا کبھی نہیں کہا اور نہیں سمجھا ۔
لہذا خلیفہ اول کا اعتراف اور خلیفہ چہارم کی طرف سے اس اعتراف کو رد نہ کرنے خود اس موقف پر دلیل ہے ۔۔۔۔ ہم تو کم از کم اس اعتراف میں خلیفہ کو صادق سمجھتے ہیں کیونکہ مولا علی نے خلیفہ کو اس وجہ سے نہیں جھٹلایا ۔ آپ کی مرضی ۔۔۔۔ دیکھیں
1 :
فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا،
خلیفہ کو جھوٹا ، گناہ کار ، دھوکہ باز ، خائن ، ظالم ، جابر ۔۔سمجھنا
امیر المومنین علی ابن ابی طالب ع خلیفہ اول اور دوم کی طرف سے حدیث نحن معاشرالانبیا ء ۔۔ سے استدلال کرنے اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو حق نے دینے کے مسئلے میں خلفاء کو حق بجانب نہیں سمجھتے تھے ۔۔۔۔

قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ» ، فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَلِيُّ أَبِي بَكْرٍ، فَرَأَيْتُمَانِي كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، فَوَلِيتُهَا ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ، فَقُلْتُمَا: ادْفَعْهَا إِلَيْنَا، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللهِ أَنْ تَعْمَلَا فِيهَا بِالَّذِي كَانَ يَعْمَلُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُمَاهَا بِذَلِكَ، قَالَ: أَكَذَلِكَ؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُمَانِي لِأَقْضِيَ بَيْنَكُمَا، وَلَا وَاللهِ لَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا بِغَيْرِ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَرُدَّاهَا إِلَيَّ،
_____ صحیح مسلم ۔۔ - كتاب الجهاد والسير - باب 15 - بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ
السنن الكبرى للبيهقي کتاب قسم الفئ۔۔ ۔۔۔ ( 5 باب بيان مصرف أربعة أخماس الفيء بعد رسول الله ص
مسند أبي عوانة (4/ 244): کتاب الایمان ۔۔۔18 باب الأخبار الدالة على الإباحة أ

2 :

- تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَذَا وَكَذَا ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5358 - ح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔- فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَبَضَهَا أَبُو بَكْرٍ يَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَنْتُمَا حِينَئِذٍ - وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِىٍّ وَعَبَّاسٍ - تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَذَا وَكَذَا ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ، ثُمَّ تَوَفَّى اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَبِى بَكْرٍ ، فَقَبَضْتُهَا سَنَتَيْنِ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ جِئْتُمَانِى وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ وَأَمْرُكُمَا جَمِيعٌ ، ۔۔۔۔۔۔۔ . أطرافه 2904 ، 3094 ، 4033 ، 4885 ، 5357 ، 6728 ، 7305 تحفة 5135 ،
صحيح البخارى (18/ 68، بترقيم الشاملة آليا) : کتاب النفقات ۔3 - باب حَبْسِ نَفَقَةِ الرَّجُلِ قُوتَ سَنَةٍ عَلَى أَهْلِهِ ، وَكَيْفَ نَفَقَاتُ الْعِيَالِ . ( 3 ) 5358 ۔۔كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ ۔۔۔ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي العِلْمِ، وَالغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالبِدَعِ7305
مسند أحمد (4/ 213): وَمِنْ مُسْنَدِ بَنِي هَاشِمٍ ۔۔ حَدِيثُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
بخاری کی روایت میں قابل توجہ نکتہ ۔۔
۔۔ امام بخاری نے فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، کی تعبیر کو مناسب نہیں سمجھ کا اس کی جگہ پر کذا کذا ۔۔۔ لایا ہے ۔۔۔
ایک تو یہ امام بخاری یا روای کی خیانت علمی ہے ۔۔۔ لیکن پھر بھی بعد کے جملے سے واضح ہے کہ یہاں بھی وہی مسلم والے الفاظ ہی مراد ہے کیونکہ کذا کذا کے بعد خلیفہ دوم ، خلیفہ اول کی صداقت کی گواہی دیتا ہے ۔۔۔ لہذا کاذبا ۔۔۔۔ کے مقابلے میں صداقت کی گواہی دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں بھی وہی الفاظ مراد ہے ۔۔۔۔
3 :
تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ فِيهَا ظَالِمٌ فَاجِرٌ
تم دونوں نے ابوبکر کو ظالم اور فاجر سمجھا۔۔
مصنف عبد الرزاق الصنعاني (5/ 470): خُصُومَةُ عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ 9772
صحيح ابن حبان (14/ 575): 60 - كتاب التاريخ 8 - باب مرض النبي صلى الله عليه و سلم 6608ح
مسند أبي عوانة (4/ 247): مبتدأ كتاب الجهاد 18 باب الأخبار الدالة
4 :
فَزَعَمْتُمَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ فِيهَا خَائِنًا فَاجِرًا۔۔
تم دونوں نے ابوبکر کو خائن اور فاجر سمجھا ۔۔۔
فَجِئْتَ يَا عَبَّاسُ تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَجِئْتَ يَا عَلِيُّ تَطْلُبُ مِيرَاثَ زَوْجَتِكَ مِنْ أَبِيهَا، فَزَعَمْتُمَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ فِيهَا خَائِنًا فَاجِرًا، وَاللَّهُ يَعْلَمُ [ص:209] لَقَدْ كَانَ بَرًّا مُطِيعًا تَابِعًا لِلْحَقِّ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَبَضْتُهَا، فَجِئْتُمَانِي، تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ يَا عَبَّاسُ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَتَطْلُبُ مِيرَاثَ زَوْجَتِكَ يَا عَلِيُّ مِنْ أَبِيهَا، وَزَعَمْتُمَا أَنِّي فِيهَا غَادِرٌ فَاجِرٌ،
تاريخ المدينة لابن شبة (1/ 204): خُصُومَةُ عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ۔۔۔
5 :
وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنَّهُ فِيهَا ظَالِمٌ۔۔۔۔
تم دونوں نے ابوبکر کو ظالم سمجھا
13105 ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَلِىٍّ وَالْعَبَّاسِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثُمَّ قَالَ وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنَّهُ فِيهَا ظَالِمٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ وَلِيتُهَا بَعْدَ أَبِى بَكْرٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِى فَفَعَلْتُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبُو بَكْرٍ وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنِّى فِيهَا ظَالِمٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّى ۔۔۔۔۔
السنن الكبرى للبيهقي کتاب قسم الفئ۔۔ ۔۔۔ ( 5 باب بيان مصرف أربعة أخماس الفيء بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم۔ 13105
ایک عجیب تناقض :
گزشتہ مطالب میں غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جناب خلیفہ ایک طرف تو اعتراف کر رہا ہے کہ آل رسول کو ان سے خرچ و اخراجات دینا رسول اللہ ص کی سیرت تھی ۔۔۔ ساتھ ہی خلیفہ قسم کھا رہا ہے کہ میں رسول اللہ ص کے طریقے اور سیرت کو تبدیل نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔
لیکن عجیب بات یہ ہے کہ قسم کھانے کے باجود کچھ بھی جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو نہیں دیا ۔۔۔۔۔
أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ ۔۔۔۔
صحيح البخاري (13/ 135): کتاب المغازی ۔۔ بَاب غَزْوَةِ خَيْبَرَ۔۔۔۔۔۔
صحیح مسلم ۔۔ - كتاب الجهاد والسير - باب قول النبي صلى الله عليه و سلم ( لا نورث ما تركنا فهو صدقة )
مطالبہ جاری رہا۔۔ لہذا رضایت والی کہانی کی حقیقت کا بطلان بھی واضح ۔۔
خود حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی مطابہ کرتی رہی ۔۔۔
وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ ۔۔۔ آپ بار بار مطالبہ کرتی رہیں " کانت جب فعل مضارع سے پہلے آئے تو یہ ماضی استمراری پر دلالت کرتا ہے ۔۔۔
وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ۔۔۔۔۔
صحیح مسلم ۔۔ - كتاب الجهاد والسير - باب قول النبي صلى الله عليه و سلم ( لا نورث ما تركنا فهو صدقة )
قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ۔۔۔۔۔۔
صحيح البخاري ۔۔ کتاب خمس ۔۔۔ 1 - باب فرض الخمس 2926

امیر المومنین علیہ السلام نے بھی خلیفہ اول اور دوم کے دور میں بھی یہی مطالبہ جاری رکھا۔۔۔ اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہما کے موقف کی حمایت کی ۔۔۔۔۔
خلیفہ دوم کہتا ہے ۔۔ علی میرے پاس اپنی بیوی کی ان کے باپ سے میراث کا مطالبہ کرنے آیا ۔
، جِئْتَنِى تَسْأَلُنِى نَصِيبَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ ، وَأَتَى هَذَا يَسْأَلُنِى نَصِيبَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا
صحيح البخارى (18/ 68، بترقيم الشاملة آليا) : کتاب النفقات ۔3 - باب حَبْسِ نَفَقَةِ الرَّجُلِ قُوتَ سَنَةٍ عَلَى أَهْلِهِ ، وَكَيْفَ نَفَقَاتُ الْعِيَالِ . ( 3 ) 5358
كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ ۔۔۔ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ وَالتَّنَازُعِ فِي العِلْمِ، وَالغُلُوِّ فِي الدِّينِ وَالبِدَعِ7305
مسند أحمد (4/ 213): وَمِنْ مُسْنَدِ بَنِي هَاشِمٍ ۔۔ حَدِيثُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، ۔۔۔۔۔ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ، ۔۔۔
صحیح مسلم ۔۔ - كتاب الجهاد والسير - باب 15 - بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ
السنن الكبرى للبيهقي کتاب قسم الفئ۔۔ ۔۔۔ ( 5 باب بيان مصرف أربعة أخماس الفيء بعد رسول الله صلى الله عليه و
مسند أبي عوانة (4/ 244): کتاب الایمان ۔۔۔18 باب الأخبار الدالة على الإباحة أ
وجاءني هذا ـ يعني عليا ـ يسألني ميراث امرأته فقلت لكما : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( لا نورث ما تركنا صدقة ) ثم بدا لي أن أدفعه إليكما فأخذت عليكما عهد اله۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔ صحيح ابن حبان (14/ 575):
هذا - يعني عليا - يسألني ميراث امرأته من أبيها فقلت لكما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لانورث ما تركنا صدقة ثم بدا لي أن أدفعها إليكم ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ مصنف عبد الرزاق (5/ 471):
ثُمَّ جِئْتُمَانِي، جَاءَنِي هَذَا , يَعْنِي الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , يَسْأَلُنِي مِيرَاثَهُ مِنِ ابْنِ أَخِيهِ، وَجَاءَنِي هَذَا , يُرِيدُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , يَسْأَلُنِي مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا،۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ السنن الكبرى للبيهقي (6/ 487):
ہم سے کہتے ہیں : جناب زہرا سلام علیہا کا حق ثابت کرو....... ..

برچسب: نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: جمعه 12 شهريور 1400 ساعت: 12:45

صفحه بندی