ایک اصطلاح جو اھل سنت کے درمیان خاص تقدس سے برخوردار ہے، لفظ"اھل سنت و 1 ہے" کہ جس پر وھابیت کی طرف سے 1 کیا گیا اور اسے غصب کیا گیا ہے، یہاں تک کہ یہ عنوان آجکل وھابیت جیسے انتھاپسند فرقہ کا نام ہوگیا ہے، جبکہ "اھل سنت و جماعت" اور وھابیت کے درمیان بھت سارے اختلاف ہیں، یہاں تک کہ اھل سنت کے بزرگ، نہ صرف وھابیت کی "اھل سنت و جماعت"کے ساتھ نسبت کو رد کرتے ہیں، بلکہ انکو خارجی کے نام سے پکارتے ہیں۔
مقدمہ
اھل سنت و جماعت والی اصطلاح کا زمانہ کے گذرنے کے ساتھ، شیعوں کے مدمقابل عامہ فرقہ پر اطلاق ہوا ہے،[1] البتہ اسکے استعمال کی تاریخ اور اس کے نتیجہ میں اور اس بات میں کہ طول تاریخ میں یہ لفظ کن کے لئے استعمال ہوا ہے، روشن نہیں ہے۔ بارھویں صدی میں وھابیت کے ظھور کے بعد یہ لفظ غصب کیا گیا، اور وھابی صرف خود کو ہی اھل سنت جانتے ہیں، اور دوسرے چار مذھبوں کو نہ صرف اھل سنت نہیں جانتے، بلکہ بعض عقائد کہ وجہ سے انکو، بعض موارد میں اھل بدعت قرار دیتے ہوئے انکی تکفیر کرتے ہیں۔ جبکہ 1 اور "اھل سنت و جماعت"کی اصطلاح میں بھت زیادہ اختلاف ہیں، اور آجکل اھل سنت کے بزرگ علماء مختلف جگھوں پر، وھابیت کی اھلسنت کے ساتھ تعلق کی نفی کرتے ہیں، اسی طرح اھل سنت کے علماء نے اپنی کتابوں میں، وھابیت کو خوارج کے فرقوں میں سے قرار دیا اور صراحت کے ساتھ اسے بیان کیا ہے۔
اس تحریر میں لفظ "اھل سنت وجماعت" کی تاریخ کو اور اسی طرح اس کے مصادیق میں اختلاف کی طرف اشارہ ہوگا، اور پھر اس لفظ کو وھابیت کی طرف سے غصب اور قبضہ کرنے کے بیانات، اور اھل سنت کی طرف سے انکو نقد کرنے کو بیان کیا جائے گا۔
لفظ "اھل سنت و جماعت" اور اسکی تاریخ
لفظ"اھل سنت و جماعت" کا استعمال اھل سنت کے چار فقھی مذھبوں کے درمیان رائج ہے۔ آل حمدان کتاب "الجامع فی عقائد ورسائل اھل السنہ والاثر" میں ان ساٹھ افراد کی طرف اشارہ کرتا ہے، [2]جن سے اپنی اس تحریر میں اس نےاھل سنت کے عقائد اخذ کئے ہیں۔ کہ ذیل میں ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
● "احمد بن ابراھیم اسماعیلی، متوفی 371ھ"، کتاب "اعتقاد اھل السنہ"[3]
● "طبری لالکایی متوفی 418ھ"، کتاب "شرح اصول اعتقاد اھل السنہ والجماعہ" [4]
● "ابوالمعالی جوینی متوفی478ھ"، کتاب "لمع الادلہ فی قواعد عقائد اھل السنہ والجماعہ" [5]
● "احمد الطیب"، کتاب "الامام ابوالحسن الاشعری امام اھل السنہ والجماعہ(نحو وسطیہ اسلامیہ جامعہ)" [6]
موضوع لفظ "اھل سنت و جماعت" کے استعمال اور اسکی پیدایش کی تاریخ میں اختلاف ہے، لیکن ذیل میں مثال کے طور پر تین اقوال کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
الف) اس اصطلاح کی تاریخ، پہلی صدی کے اواخر یا دوسری صدی ھجری کے اوائل کی طرف لوٹتی ہے، جیساکہ ان رسالوں میں جو عمر بن عبدالعزیز نے (متوفی 101ق)نظریہ قدر کی رد میں لکھے ہیں، اصطلاح "اھل السنہ" استعمال ہوئی ہے۔
عمر بن عبدالعزیز کے کلام کے ظاھر سے جو معلوم ہوتا ہے، اھل سنت کا وہاں استعمال اصطلاحی نہیں ہے، بلکہ سنت نبوی کے محدث، ناقل اور اس پر عمل کرنے والے مراد ہیں، [7]جیساکہ کہا ہے: "قد علمتم اھل السنہ کانوا یقولون: الاعتصام بالسنہ نجاہ"[8]
ب)بعض لوگ معتقد ہیں کہ لفظ "اھل سنت" معاویہ سے پھلے پھچانا ہو نہیں تھا۔ شیخ ابوریہ مصری جو بڑے لکھاریوں میں سے ہے لکھتا ہے:
" أننا لا نعرف شيئا اسمه (أهل السنة) ولا شيئا آخر يقابلها من سائر الفرق أو المذاهب التي استحدثت بين المسلمين لتعريفهم، وبخاصة فإن وصف أهل السنة هذا لم يكن معروفا قبل معاوية بن أبي سفيان، وقد استحدثوه في عهده في العام الذين وصفوه بأنه (عام الجماعة) نفاقا للسياسة لعنها الله، وما كان إلا عام الفرقة»"[9]
"ھم اھل سنت اور دوسرے فرقوں اور مذھبوں کو جو مسلمانوں کے درمیان پیدا ہوئے ہیں، کے نام سے کسی چیز کو نہیں جانتے کہ جو تاریخ میں یاد دلائی گئی ہو، اور یہ نام اھل سنت معاویہ سے پہلے معروف نہیں تھا، اور اس نام کو اسکے زمانے جس سال کا سال جماعت نام رکھا، وجود میں آیا اور یہ اسکی سیاست کی طریقوں میں سے تھا، اس پرخدا کی لعنت ہو، جبکہ وہ سال امت کے تفرقہ اور جدائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا"
ج)کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ لفظ "اھل سنت و جماعت" کو ابوالحسن اشعری نے اپنے اور اپنے اتباع کے لئے انتخاب کیا ہے۔ "تفتازانی" کتاب "شرح العقائد النسفیہ" میں لکھتا ہے: ابوالحسن اشعری کا اپنے استاد ابو علی جبائی- معتزلیوں کے بزرگ عالم- سے اختلاف ہوا، اور اس نے معتزلی مذھب کو چھوڑا، اس وقت اپنے عقائد کو ثابت کرنے کے لئے سنت(روایات)سے مدد لیکر ایک دوسرے راستہ کو انتخاب کیا اور اس پر” اھل سنت و جماعت“ نام رکھا۔ [10]
جو کچھ بیان ہوا اسکی بناء پر معلوم ہوتا ہے کہ لفظ اھل سنت کےاستعمال کی تاریخ میں اختلاف ہے۔
"اھل سنت و جماعت" کے مصادیق
جیسے لفظ"اھل سنت و جماعت" کے استعمال کی تاریخ میں اختلاف ہے، اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ اس لفظ سے مراد کون ہیں، کیونکہ مذکورہ بالا اور دوسرے اقوال کی بناپر جو اسکی تاریخ کے بارے میں موجود ہیں، اس لفظ سے مراد بھی بدل جاتی ہے۔
اس لفظ کی تاریخ سے چشم پوشی کرتے ہوئے "اھل سنت و جماعت" کی اصطلاحی معنی اور مصادیق کے بارے میں مختلف آراء وجود رکھتی ہیں۔
الف) "اھل سنت و جماعت" کی اصطلاح کا زمانے کے گذرنے کے ساتھ، شیعوں کے مقابلہ میں عامہ فرقہ پر اطلاق ہوا ہے، اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جوتین خلیفوں کی خلافت کو قبول کریں، جیساکہ ابن تیمیہ نے اپنی کتاب میں اسکی طرف اشارہ کیا ہے۔[11]
ب) "اھل سنت و جماعت" سے مراد وہ ہیں جو خدا کے لئے صفات کو اثبات کرتے ہیں اور قرآن کے مخلوق نہ ہونے، آخرت میں خدا کو دیکھنے، اسی طرح قدر اور اھل حدیث کے ہاں دوسرے جانے پھچانے ہوئے اصول کا عقیدہ رکھتا ہو۔[12]
ج) "اھل سنت و جماعت" سے مراد سلف امت کے پیشوا ہیں، جیساکہ ابن تیمیہ نےاس کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ وہ لکھتا ہے: "اھل سنت و جماعت" سے مراد، سلف امت اور انکے پیشوا اور انکے پیروکار ہیں"[13]
لفظ "اھل سنت و جماعت" پر قبضہ اور اسے غصب کرنا
اگرچہ لفظ "اھل سنت و جماعت" سے مراد میں اختلاف ہے، لیکن قدر متیقن یہ ہے کہ یہ اصطلاح فرقہ عامہ جسکے تابع چار مذھب ہیں یا انکے گذشتہ افراد کی طرف سے استعمال کیا گیا ہے۔
یہ اصطلاح بارہویں صدی میں فرقہ وھابیت کے وجود میں آنے کے بعد انکی طرف سے غصب کی گئی۔ کیونکہ وھابی اپنی تحریروں میں لفظ "اھل سنت و جماعت" استعمال کرتے ہیں،اور انکا ھدف سارے اھل سنت کو، اصطلاح اھل سنت سے خارج کرنا ہے، تاکہ اس ذریعہ سے اپنے فرقہ کے عقائد کو مذھب حق اور اھل نجات ظاھر کریں۔ وہ مذکورہ لفظ سے مراد اور مصادیق کو صرف خود سے مخصوص سمجھتے ہیں، اور اھل سنت کے تمام فرقوں کو اھل بدعت جانتے اور انکی تکفیر کرتے ہیں۔
وھابی معتقد ہیں کہ محمد بن عبدالوھاب کی دعوت کے آغاز سے پھلے شرک اکبر عام ہوگیا تھا۔[14] وھابیوں کی نظر میں محمد بن عبد الوھاب سے پھلے چھ صدیوں میں سارے مسلمان، حتی اسکے مشایخ اور اساتید کے اساتید کافر ہیں[15] اور لا الہ الا اللہ کی معنی نہیں سمجھے۔ [16]اس لحاظ سے سارے مسلمان جو انکے افکار کے مخالف ہیں، وہ کافر ہیں اور انکی جانیں اور مال مباح ہے۔ [17]
وھابیوں نے اھل سنت فرقوں کی تکفیر میں مستقل کتابیں لکھی ہیں، جیساکہ کتاب "نقض عقائد الاشاعرہ والماتریدیہ" یا " تکفیر الاشاعرہ" کے عنوان سے کتاب تالیف کی ہے۔ اسی طرح فوزان نے کتاب "عقیدہ التوحید" میں جھمیہ، اشاعرہ اور ماتریدیہ کے مشرک ہونے کی تصریح کی ہے۔ [18]بن عثیمین نے بھی اپنی تحریروں میں تصریح کی ہے کہ دومذھب "اشعری اور ماتریدی" کیونکہ اللہ کی صفات کا انکار کرتے ہیں، لھذا اھل سنت میں سے شمار نہیں ہوتے بلکہ اھل بدعت ہیں۔[19] وہ آگے حتی اھل سنت کے علماء جیسے صحیح مسلم کے شارح نووی، اور ابن حجر کو بھی اسماء و صفات کے بحث میں اھل سنت میں سے نہیں جانتے اور اس بحث میں انکو اھل بدعت کہہ کر نام لیتا ہے۔
بن باز بھی اھل بدعت مذھب کو چاھے جھمیہ ہوں یا معتزلہ، کہ جو اللہ تعالی کی صفات کی تاویل کرتے ہیں کو باطل سمجھا ہے، اور " اھل سنت و جماعت" کو وھابیت سے منسوب کرکے لکھتا ہے: "اھل سنت و جماعت اسکا انکار کرتے ہیں اور ان سے بیزاری کا اظھار کرتے ہیں اور اس مذھب والوں سے دوری اختیار کرتے ہیں"[20]
تنقیدی جائزہ
لفظ "اھل سنت و جماعت" پر وھابیت کی طرف سے قبضہ، بھت سارے اھل سنت اور دوسروں کی طرف سے تنقید کا موجب بنا ہے، کہ ذیل میں اسکے تین نمونے بیان کرتے ہیں۔
الف) اھل سنت کے علماء نے اپنی کتابوں میں، وھابیت کو نہ صرف "اھل سنت و جماعت" سے بیگانہ قرار دیا ہے، بلکہ انکو "خارجیوں" میں سے سمجھا ہے۔ منجملہ ان علماء کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے کہ جنھوں نے محمد بن عبد الوھاب پر تنقید میں بات کی ہے انہوں نے اپنے خطوں،[21] یا کتابوں میں،[22] محمد بن عبدالوھاب کو خارجیوں سے تشبیہ یا توصیف کی ہے۔ اھل سنت کے دوسرے عالموں میں سے دیوبندیوں کے مشھور عالم محمد تھانوی کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ اس نے محمدبن عبدالوھاب اور اسکے ماننے والوں کو خارجیوں کا فرقہ قرار دیا ہے۔ [23]
صاوی مالکی بھی تفسیر جلالین پر اپنے حاشیہ میں، اپنے زمانے کے وھابیوں کو خارجیوں سے تشبیہ دیکر اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے کہ ان وھابیوں کو نابود کرے۔[24]
ب)وھابیت "نووی اور ابن حجر عسقلانی" جیسے علماء کو بحث صفات میں اھل سنت میں سے شمار نہیں کرتے۔[25] "شیخ سعید فودہ" وھابیوں کی تنقید کے بارے میں کھتا ہے:
"محمد بن عبدالوھاب کے ماننے والے بیس سال پھلے کھتے تھے امام نووی اور امام ابن حجر عسقلانی اشعری نہیں تھے، بلکہ وہ مسکین تھے جو اشعریوں سے متاثر ہوئے ہیں!!! لیکن اب کہتے ہیں کہ امام نووی اور امام ابن حجر عسقلانی اشعری تھے۔ یہ اھل سنت کے علماء کی تحقیر کے لئے ایک تدریجی سناریو ہے۔ ھم اس نجدی جماعت سے کہتے ہیں کہ ان اھل سنت سے جو امام نووی اور امام ابن حجر عسقلانی کی علمی قدر و منزلت کو جانتے ہیں، تم کس جرات کے ساتھ کھتے ہو کہ وہ ھمارے مخالف ہیں لھذا اھل سنت میں سے نہیں ہیں، یا تھوڑے اھل سنت ہیں اور تھوڑے نہیں ہیں، لھذا ھم انکو نہیں مانتے! کس جرات کے ساتھ امام نووی اور امام عسقلانی کو مسکین، غبی اور جاھل، ابتدائی طالب علم اور چھوٹا سمجھتے ہو؟!!! اور البتہ نجدی جماعت کا عقلوں، اھل سنت کے ائمہ اور علماء سے تعامل میں یہی رویہ ہے"[26]
ج)اھل سنت کے علماء نشستوں اور کانفرنسوں میں، وھابیت کے "اھل سنت و جماعت" سے خارج ہونے پر تاکید کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر تاریخ 17 اگست ۲۰۱۶م میں روس کے چچنیا کے دار الحکومت گروزنی میں، ایک کانفرنس برگزار ہوئی جس میں اھل سنت کے 200 علماء نے (مصر، لبنان، شام، عراق، ترکی، روس، اردن، اور دوسرے ملکوں سے)شرکت کی، خصوصا الازھر یونیورسٹی کے مفتیوں نے شرکت کی اس کانفرنس کا موضوع "اھل سنت و جماعت کون ہیں؟" تھا۔ لیکن اس کانفرنس میں سعودی اور قطری وھابی مفتیوں کو شرکت کے لئے دعوت نہیں دی گئی اور یہ موضوع وھابی مفتیوں کے غصہ اور سخت رد عمل کا موجب بنا۔ اس کانفرنس جس میں شیخ"احمد الطیب" شیخ الازھر بھی حاضر تھے، شرکت کرنے والوں نے اختتامی بیانیہ میں میں اھل سنت کی اسطرح تعریف کی:
"اھل سنت عقائد اور کلامی مذاھب میں اشعری اور ماتریدی اور فقہ میں چار مذھب یعنی حنفی، مالکی، شافعی، اور حنبلی ہیں اور علمی، اخلاقی اور تزکیہ نفس کے لحاظ سے امام الجنید(جنید بغدادی) اور ان جیسے دوسرے بزرگوں کی طرح اھل تصوف پاک ہیں"۔ اس کانفرنس میں اس بات پر تاکید کی گئی کہ وھابیت اسلامی امت میں تفرقہ اور اسلام کی بدنامی کا باعث بنی ہے۔ [27]
نتیجہ
وھابی جو ڈجیٹل چینلز اور میڈیا میں جو ھمیشہ اھل سنت کے ساتھ ھمفکری کی دعوی کرتے ہیں، جھوٹ اور میڈیا کی دھوکہ بازی ہے، کیونکہ وہ صرف خود کو "اھل سنت و جماعت" سمجھتے ہیں، اور اھل سنت کے دوسرے چار مذھبوں کا، اس لفظ سے منسوب ہونے کا نہ صرف انکار کیا ہے، بلکہ بعض عقیدوں کی وجہ سے انکو، کبھی اھل بدعت قرار دیتے ہوئے انکی تکفیر کرتے ہیں۔ حالانکہ سارے جھان میں اھل سنت کے بزرگ علماء نے نہ صرف وھابیت کے "اھل سنت و جماعت" سے منسوب ہونے کو رد کیا ہے، بلکہ انکو خارجی سمجھتے اور کھتے ہیں۔
[1] «فلفظ " أهل السنة " يراد به من أثبت خلافة الخلفاء الثلاثة، فيدخل في ذلك جميع الطوائف إلا الرافضة»
ابن تيميه، احمد بن عبد الحليم (م 728)، منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية، ج 2، ص 221؛ تحقيق: محمد رشاد سالم، جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية، چاپ اوّل، 1406 هـ.
[2] آل حمدان، عبدالله، الجامع في عقائد ورسائل أهل السنة والأثر، صص 13 الی ص 16، ریاض، دارالمنهج، 1436 ه، 2015 م.
[3] - إسماعيلي، أحمد بن إبراهيم، إعتقاد أهل السنة، تحقیق: جمال عزون، الناشر: دار ابن حزم، چاپ اول، 1420 - 1999 .
[4] طبری لالکایی، هبه الله بن حسن، شرح أصول إعتقاد أهل السنة و الجماعة، ریاض: دار طيبه، ۱۴۲۶ –۲۰۰۵.
[5] أبو المعالي جويني، عبد الملك بن عبد الله، لمع الأدلة في قواعد عقائد أهل السنة والجماعة، المحقق: فوقية حسين محمود، الناشر: عالم الكتب – لبنان، الطبعة: الثانية، 1407هـ - 1987م.
[6] طيب، أحمد، الامام ابو الحسن الاشعري إمام أهل السنة والجماعة (نحو وسطية إسلامية جامعة) قاهره، دار القدس العربی، 1434 ه، 2014 م.
[7] «إنّ توصيف طائفة من المسلمين باسم أهل السنّة من العناوين الطارئة الحديثة التي ظهرت في آخر القرن الأوّل أو في أوّليات القرن الثاني، فإنّك لا ترى أثراً من هذا الاسم ولا التوصيف به في زبر الأوّلين إلاّ في رسالة عمر بن عبد العزيز في القدر التي مرت بنصها في ما سبق»
سبحاني، شيخ جعفر، بحوث في الملل والنحل، ج 1، ص 343، مؤسسة النشر الإسلامي التابعة لجامعة المدرّسين بقم المشرّفة، الطبعة: الثالثة، مؤسسة الإمام الصادق (علیه السلام).
[8] اصفهانى، أحمد، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، ج 5، ص 346، السعادة بجوار محافظة مصر، 1394ق.
[9] أبو رية، محمود، شيخ المضيرة أبو هريرة " أول راوية اتهم في الاسلام " ابن قتيبة، ص 309، الطبعة الثالثة: مزيدة ومعدلة حق الطبع محفوظ دار المعارف بمصر.
[10] «و ترك الأشعرى مذهبه، و اشتغل هو و من تبعه بابطال رأى المعتزلة، و اثبات ما وردت «1» به السنة، و مضى عليه الجماعة. فسموا أهل السنة و الجماعة»
تفتازانى، مسعود بن عمر (793)، شرح العقائد النسفية، ص 12، مكتبة الكليات الأزهرية، چاپ اول قاهره،، 1407ه. ق.
[11] «فلفظ " أهل السنة " يراد به من أثبت خلافة الخلفاء الثلاثة، فيدخل في ذلك جميع الطوائف إلا الرافضة»
ابن تيميه، احمد بن عبد الحليم (م 728)، منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية، ج 2، ص 221؛ تحقيق: محمد رشاد سالم، جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية، چاپ اوّل، 1406 هـ.
[12] «فلفظ " أهل السنة " ... وقد يراد به أهل الحديث والسنة المحضة، فلا يدخل فيه إلا من يثبت الصفات لله تعالى ويقول: إن القرآن غير مخلوق، وإن الله يرى في الآخرة، ويثبت القدر، وغير ذلك من الأصول المعروفة عند أهل الحديث والسنة»؛
ابن تيميه، احمد بن عبد الحليم (م 728)، منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية، ج 2، ص 221.
[13] «هم أهل السنة والجماعة وهم سلف الأمة وأئمتها ومن تبعهم بإحسان»
ابن تيميه حراني، احمد، مجموع الفتاوى، ج 24، ص 341، تحقيق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم، مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، مدينة نبوية، 1416ق.
[14] . بن باز، عبدالعزیز، مجموع فتاوی، ج1، ص358.
[15] حبيب علوي، حداد، مصباح الأنام وجلاء الظلام في رد شبه البدعي النجدي التي أضل بها العوام، ص15، بی جا، 1325 ه.
«وما أعظم من قول النجدی من الحكم بالكفر من سنين قريبا من ستمائة سنة حتى مشايخه ومشايخ مشايخه حكم عليهم بالكفر زورا وبهتانا وكذبا صريحا بحق الحكم عليه»
[16] عبدالله بن داوود حنبلی، الصواعق والرعود، ص۱۱۵. «هذا المفتری یحلف ایماناً مغلّظة انه و مشایخه و جمیع العلما من اهل زمانه لم یعرفوا معنی شهادة ان لا اله الا الله»
[17] ابن عبد الوهاب، محمد، الرسائل الشخصيه، ص272، تحقيق: صالح الفوزان و محمّد بن صالح العقيلي، جامعة الإمام محمّد بن سعود، رياض، بي تا.
[18] «فهؤلاء المشركون هُم سلف الجهمية، والمعتزلة والأشاعرة، وكل من نفى عن الله ما أثبتَهُ لنفسه، أو أثبته له رسوله - صلى الله عليه وآله وسلم - من أسماء الله وصفاته. وبئسَ السلف لبئس الخلف»
فوزان، صالح، عقيدة التوحيد وبيان ما يضادها من الشرك الأكبر والأصغر والتعطيل والبدع وغير ذلك، ص65، بی جا، بی نا.
[19] «هناك من ينكر استعمال مصطلح أهل السنة والجماعة، ويقول: نقول: السلفيين أو السلف؛ لأن في ذلك إدخالاً للأشاعرة والماتريدية في هذا المصطلح؟ الجواب: من الخطأ أن ندخل أهل البدع مهما كانت بدعتهم في الاسم المطلق لـ أهل السنة والجماعة، فإن أهل السنة والجماعة لا يدخل فيهم من خالف السلف فيما هم عليه، وفيما خالفهم فيه، فمثلاً: إذا كان هذا الرجل ينكر من صفات الله وأسمائه ما ينكره فهو ليس من أهل السنة والجماعة فيما أنكره».
بن عثیمین، محمد بن صالح، لقاء الباب المفتوح، ج 8، ص 29.
[20] «أما التأويل للصفات وصرفها عن ظاهرها فهو مذهب أهل البدع من الجهمية والمعتزلة، ومن سار في ركابهم، وهو مذهب باطل أنكره أهل السنة والجماعة، وتبرأوا منه، وحذروا من أهله والله ولي التوفيق»؛
بن باز، عبد العزيز بن عبد الله (المتوفى: 1420هـ)، مجموع فتاوى العلامة عبد العزيز بن باز رحمه الله، ج 4، ص 133؛ أشرف على جمعه وطبعه: محمد بن سعد الشويعر.
مزید مطالعه کے لئےرجوع کریں؛
https://www.alwahabiyah.com/fa/Articleview/77801
[21] ویسی در نامه ای خطاب به محمد بن عبدالوهاب روش وی را روش خوارج ذکر کرده است.
«أما قولك إن التوحيد جاء به الرسول صلى الله عليه و آله و أنتم تنقضونه فلقد أخطأت ، ما صدر منا ، و إنما ينقض ما كتبته أنت توحيدا من تلقاء نفسك ، من تكفير المسلمين و استباحة دمائهم و أموالهم بلا برهان من الله و رسوله و ما هي إلا طريقة الخوارج»؛ « « یہ جو کہتے ہو: « تم نے نبی اکرم صلی الله علیه وآله کی توحید کونقض کیا ہے»،غلط ہے. ھم نے توحید کو نقض نہیں کیا بلکہ تم نے جو اپنی طرف سے توحید لکھی ہے ، وہ توحید نبی اکرم صلی الله علیه وآله کا نقض ہے. تو نے مسلمانانوں کی تکفیر کی ہے اور انکےخون و مال کو بغیر اسکے کہ خدا یا پیامبر کی طرف سے کوئی دلیل رکھتے ہو مباح سمجھا ہے. یہ طریقہ خوارج کے طریقہ کے سوا کچھ نھیں »؛ ابن بسّام، عبدالله، علماء نجد خلال ثمانیة قرون،دار العاصمة،ریاض،چاپ اوّل، 1398 هـ ، ج 4، ص 365.
برای مراجعه به سند فوق، ر، ک؛
https://www.alwahabiyah.com/fa/Documentsview/36678
[22] کچھ علماء یہ ہیں ؛
ابن عابدين، محمد امین، رد المختار، ج ۴، ص ۲۶۲؛ و یا مرادآبادی، محمد نعیم الدین، التحقيقات لدفع التلبيسات، ص ۲.
محمد نعيم الدين مراد آبادي کتاب «التحقيقات لدفع التلبيسات» میں محمد بن عبد الوهاب کی شناخت میں لکھتا ہے:
«وکان الناس علي العقيدة الحقه من الشرق والغرب حتي خرج رجل من نجد العرب وهو محمد بن عبدالوهاب الذي من ضلالة واضحة استحق العذاب … فلاشک انه کان من الخوارج الملحدين»؛ « شرق اورغرب عالم میں لوگ صحیح عقيده پر تھے یہاں تک کہ عربی نجد کے علاقہ سے محمد ابن عبدالوهاب نامی شخص نے خروج کیا، جو گمراہی اور گمراه کرنے کی وجہ سے مستحق عذاب الهي ہے). وہ دلیلوں میں ابن عابدین کے کلام کی طرف اشارہ کرتا ہے، کہ جس نے محمد بن عبدالوھاب کو خارجیوں میں سے جانا ہے۔
برای مراجعه به سند فوق، ر، ک؛
https://www.alwahabiyah.com/fa/Documentsview/14865
ابن عابدين، محمد امین، رد المختار، ج ۴، ص ۲۶۲.
[23] ابو المکرم بن عبد الجلیل، دعوة الشیخ محمد بن عبد الوهاب بین مؤیدیها و معارضیها في شبه القارة الهندیة، ص 229؛ دار السلام للنشر والتوزیع، ریاض، چاپ اوّل، 1421ق،
سند فوق کی طرف رجوع کے لئے، دیکھیں ؛
https://www.alwahabiyah.com/fa/Documentsview/14220
[24] صاوى، احمد بن محمد، حاشية الصاوي على تفسير الجلالين، مصر، چاپ اول، 1345 ه، 1926 م.
سند فوق کی طرف رجوع کے لئے، دیکھیں ؛
https://www.alwahabiyah.com/fa/Documentsview/14236
[25] «سائل يقول: هناك من يحذر من كتب الإمام النووي وابن حجر رحمهما الله تعالى، ويقول: إنهما ليسا من أهل السنة والجماعة، فما الصحيح في ذلك؟
ج: لهم أشياء غلطوا فيها في الصفات، ابن حجر والنووي وجماعة آخرون، لهم أشياء غلطوا فيها، ليسوا فيها من أهل السنة، وهم من أهل السنة فيما سلموا فيه ولم يحرفوه هم وأمثالهم ممن غلط»
بن باز، عبد العزيز بن عبد الله (المتوفى: 1420هـ)، مجموع فتاوى العلامة عبد العزيز بن باز رحمه الله، ج 28، ص 47؛ أشرف على جمعه وطبعه: محمد بن سعد الشويعر.
برچسب:
نویسنده: میلاد هاشمی