خرید بک لینک

مثلا امیر المومنینؑ نے جو طریقہ رسول اللہﷺ سے سیکھا تھا وہی طریقہ انہوں نے اپنے فرزندوں کو سکھایا اور دوسرے ائمہ ؑ نے بھی اپنے فرزندوں اور شاگردوں کو یہی طریقے سکھایا ۔

ائمہ اہل بیتؑ کی تعلیمات اور سیرت کا حقیقی وارث شیعہ ہی ہیں۔ شیعہ ہی نسل در نسل دینی تعلیمات کے حصول میں ائمہ اہل بیت ؑ سے وابستہ رہے ہیں ۔ اس کی واضح دلیل ائمہ ؑ کی تعلیمات اور سیرت سے لبریز شیعوں کی معتبر کتابیں ہیں ۔

لہذا بعض دینی امور کے انجام دہی میں دوسروں سے الگ طریقہ اپنانے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے یہ طریقے ائمہ اہل بیت ؑ سے لیا ہے اور اس کے علاوہ اس قسم کا جو بھی مسئلہ ہو ہم دوسروں کی کتابوں سے بھی اسے ثابت کرسکتے ہیں۔

ہم یہاں اس قسم کے مسائل کے چند نمونے ذکر کرتے ہیں ۔

: دونمازوں کو ساتھ پڑھنا:

نمازظہر و عصر یا مغرب و عشاء کو ایک ساتھ پڑھنا جائز ہے(اگرچہ انہیں الگ الگ وقت میں پڑھنا افضل اور بہتر ہے) .راوی امام صادقؑ سے پوچھتا ہے کہ کیا بغیر عذر کے دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھ سکتا ہے ؟ امام نے جواب میں فرمایا:قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ ص أَرَادَ التَّخْفِيفَ عَنْ أُمَّتِهِ [1]. رسول اللہﷺ نے ایسا کیا ہے۔ آپ امت کی زحمت کو کم کرنا چاہتے تھے۔

اہل سنت کی مشہور کتاب صحیح ترمذی میں ابن عباس سے یوں منقول ہوا ہے کہ :جمع رسول اللّه (صلى الله عليه وآله وسلم) بين الظهر والعصر وبين المغرب والعشاء بالمدينة من غير خوف ولا مطر، قال: فقيل لابن عباس: ما أراد بذلك؟ قال: أراد أن لايحرج أُمّته[2]. مدینہ میں پیغمبر اسلام ﷺنے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں بھی اکٹھی پڑھیں حالانکہ نہ کوئی خطرہ تھا اور نہ بارش تھی ۔ابن عباس سے دریافت کیا کہ اس کام سے آنحضرت کا کیا مقصد تھا ؟ تو اس نے جواب دیا تاکہ اپنی امت کو مشکل میں نہ ڈالیں.

موجودہ دور میں جب کہ معاشرتی زندگی خاص کر کارخانوں اور مصروف صنعتی مراکز میں بڑی پیچیدہ شکل اختیار کر چکی ہے اور پانچ الگ الگ اوقات میں نماز کی پابندی کی شرط کے باعث بعض لوگوں نے نماز کو بالکل ہی چھوڑ دیا ہے ۔ پیغمبر اسلام (ص) نے یہ جو اجازت عطا فرمائی ہے اس سے استفادہ کرتے ہوئے نماز کو زیادہ پابندی سے ادا کیا جا سکتا ہے[3].

خاک پر سجدہ:

ہمارا عقیدہ ہے کہ مٹی یا زمین کے دوسرے اجزاء پر سجدہ کرنا چاہئے یا ان چیزوں پر جو زمین سے اگتی ہوں لیکن کھانے یا پہننے کے کام نہ آتی ہوں .لہذٰا قالین وغیرہ پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ہم مٹی پر سجدہ کرنے کو سب چیزوں پر ترجیح دیتے ہیں .اسی لئے آسانی کی وجہ سے بہت سے شیعہ سانچے میں ڈھلے ہوئے پاک مٹی کا ایک ٹکڑا اپنے پاس رکھتے ہیں جسے (مہر)سجدہ گاہ کہتے ہیں اور اس پر سجدہ کرتے ہیں ۔یہ پاک بھی ہے اور مٹی بھی۔ یہ بات قابل انکار نہیں ہے کہ رسول اللہﷺ مٹی پر سجدہ کرتے تھے لہذا نبی کا عمل ہمارے لئے نمونہ عمل ہے ۔اس کے علاوہ ائمہ ؑ سے بہت سی روایات منقول ہیں جن میں مٹی اور پتھر وغیرہ کو سجدہ کی جگہ قرار دیا گیا ہے.لہذا ہم مٹی سے تیار شدہ مہر پر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں خود مہر کو سجدہ نہیں کرتے ۔

توسل کا مسئلہ :

ہمارا عقیدہ ہے کہ توسل کا مسئلہ بھی شفاعت کی طرح ہے۔ یہ مسئلہ مادی و معنوی مشکل میں بھنسے ہوئے لوگوں کو امید اور اجازت دیتاہے کہ اولیاء الھی کے دامن کا سہارا لیں تا کہ اللہ تعالی کے اذن سے وہ ان کی مشکلات کو حل کرا دیں۔ یعنی یہ کہ ایک طرف تو وہ خود اللہ کی بارگاہ میں حضور پیدا کریں اور دوسری طرف اولیاء الھی کو اپنا وسیلہ قرار دیں.جیساکہ قرآن مجید میں ہے ۔ وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جاؤُكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّاباً رَحيماً (النساء : 64 ۔

اگر وہ لوگ خود پر ظلم کرنے اور گناہ کے مرتکب ہونے کے بعد، آپ کے پاس آتے اور اللہ سے طلب بخشش کرتے اور رسول خدا (ص) بھی ان کے لیے طلب غفران کرتے تو خداوند عالم کو معاف کرنے والا اور مھربان پاتے۔

ہمیں اولیاء خدا کو مستقل اور اذن خداوند سے بے نیاز نہیں سمجھنا چاہیے اس لیے کہ ایسا کرنا شرک اور کفر کاسبب بن سکتا ہے اور ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ توسل، اولیاء الھی کی عبادت میں تبدیل ہوجائے، ایسا کرنا بھی کفر و شرک ہے[4].

انبیاء اورائمہؑ کے مزاروں کی زیارت :

“ ہمارا عقیدہ ہے کہ:پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،ائمہ اہل بیت علیہم السلام ،عظیم علماء ،دانشمندوں اور راہ حق کے شہیدوں کے مزارات کی زیارت سنت موکدہ ہے۔اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺاور ائمہ اہل بیت کی بے شمار روایات موجود ہیں [5].

زیارت کو غیر خدا کی عبادت کہنا کسی صورت میں درست نہیں، زیارت اور عبادت کے درمیان فرق ہےعبادت و پرستش خدا کے لئے مخصوص ہے جبکہ زیارت کا مقصد بزرگان دین کا احترام ،ان کی یاد کو زندہ رکھنا ہے اور خدا کے حضور ان سے شفاعت طلب کرنا ہے یہ کام نماز روزہ اور دوسرے دینی امور کی طرح ایک نیک عمل ہے [6]” اور زیارت دین سے وابستہ رہنے اور دین سے وابستگی کے اظہار کا ایک بہترین وسیلہ ہے ۔

لہذا زیارت ایک نیک عمل ہے لیکن خود ساختہ رسومات کو زیارت کے نام پر لوگوں میں رواج دینے اور لوگوں کے دینی احساسات سے غلط فائدہ اٹھانے جیسے امور کا روک تھام بھی ضروری ہے ۔

تقیہ اور اس کا فلسفہ

“ہمارا عقیدہ ہے کہ تقیہ (یعنی عقیدہ کو چھپانا)وہاں جائز ہے جہاں انسان کی جان ، مال اور عزت کو متعصب اور ہٹ دھرم دشمنوں سے خطرہ ہو اور وہاں عقیدہ کے اظہار کا فائدہ بھی کچھ نہ ہو۔ایسے موقعہ پر بلا وجہ انسان کو خطرہ میں ڈالنا اور افردای قوّت کو ضائع کرنا صحیح اور معقول نہیں. ہم نے یہ بات قرآن مجید کی آیتوں اور عقلی دلیل سے اخذ کی ہے۔قرآن میں مومن آل فرعون کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ جو اپنا ایمان چھپا کر فرعون کے دربار میں رہتے اور جناب موسی ٰؑ سے دفاع کرتے تھے (غافر : 28) اسی طرح صحابی پیغمبر جناب عمار یاسر کے تقیہ کی تائید میں قرآن کی آیت نازل ہوئی ہے : ( النحل : 106)

حضرت امام جعفر صادق ؑ کی مشہور حدیث ہے۔”التقیة ترس المومن“یعنی تقیہ مومن کی ڈھال ہے[7] ۔ ترس(ڈھال ) کا استعمال اس لطیف نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ تقیہ دشمن کے مقابلہ میں دفاع کا ایک ذریعہ ہے۔

جنگ کے میدانوں میں دشمن سے اسلحہ اور سپاہیوں کو چھپانا اور جنگی رازوں کو مخفی رکھنا وغیرہ سب کے سب انسانی زندگی میں ایک قسم کا تقیہ ہیں۔ البتہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بعض جگہوں پر تقیہ حرام ہے۔یہ وہاں ہے جہاں تقیہ کرنے سے دین،اسلام اور قرآن کی بنیاد یا اسلامی نظاموں کو خطرہ لاحق ہو جائے ۔ایسی جگہوں پر عقیدہ کا اظہار ضروری ہے۔اگر چہ انسان اس اظہار عقیدے کی وجہ سے جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے ۔ہمارا عقیدہ ہے کہ عاشورہ کے دن کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اسی نظرئے پر عمل کیاکیونکہ بنی امیہ کے حکمرانوں نے اسلام کی اساس کو خطرہ میں ڈال دیا تھا۔امام حسین علیہ السلام کے قیام نے ان کے کرتوتوں کا پردہ چاک کردیا اور اسلام کو خطرہ سے بچا لیا[8]۔”

خلاصہ : دشمن کے شر سے بچنے کے لئے ظاہری طور پر حق کا اظہار نہ کرنے کو تقیہ کہا جاتا ہے ۔اس کے برعکس نفاق وہ ہے جس میں کفر اور باطل کو چھپایا جاتا ہے (سورہ بقرہ آیہ 14)

مراسم عزاداری اور ہمارا مقصد :

“ہمارا عقیدہ ہے کہ شہدائے اسلام بالخصوص شہیدان کربلا کی عزاداری اور ان کا سوگ منانے کا مقصد ان کی یاد کو زندہ رکھنا اور اسلام کی راہ میں ان کی قربانیوں کا پرچار ہے ۔ اس کام کو انجام دینا کا ایک اہم ہدف ، خاندان پیامبر سے اظہار عقیدت اور ان کے دشمنوں اور ان کے قاتلوں سے اظہار برائت کرنا ہے ۔ہم بالخصوص عاشور کے ایام (محرم کے پہلے دس دن (میں امام حسین علیہ السلام کی زندگی اور ان کے کارناموں کا ذکر کرتے ہیں ،ان کے اہداف پر بحث کرتے ہیں اور ان کی پاک روحوں پر درود و سلام بھیجتے ہیں .شہدائے اسلام خاص کر شہدائے کربلا کی یاد تازہ کرنے سے ہمارے اندر عقیدہ اور ایمان کی راہ میں شہادت ،ایثار ،شجاعت اور فداکاری کا جزبہ ہمیشہ بیدار رہتا ہے ۔ یہ ہمیں عزت سے زندہ رہنے اور ظلم کے آگے سر نہ جھکانے کا درس دیتا ہے.لہذا عزاداری ایک عظیم معنوی سرمایہ ہے ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہئے [9]”۔

عزاداری صرف غم کی ایک داستان سنا کر اہل بیتؑ ؑ سے اظہار عقیدت کرنے اور اجر و ثواب کمانے کی ایک رسم کا نام نہیں ہے ۔ عزاداری کا بنیادی مقصد وہی ہے جس کے لئے امام ؑاور ان کے اصحاب نے قربانی پیش کی ۔ کربلا والوں نے دین بچانے کے لئے قربانی دی اور اگر عزاداری کے ذریعے دینی امور کو بیان نہ کیا جائے اور دینی امور کی انجام دہی کا جذبہ لے کر لوگ مجالس سے نہ اٹھے تو یہ بامقصد عزاداری نہ ہونے کی علامت ہے ۔

شیعہ مخالفین زیادہ تر یہ اشکال کرتے ہیں کہ شیعوں نے ہی امام حسینؑ کو نصرت کا وعدہ دے کر کوفہ بلایا تھا اور بعد میں یہی شیعہ کربلا میں امام کو شہید کرنے آئے اسی لئے شیعہ خود ہی امام حسین ؑ کے قاتل ہیں اور رونا ان کا مقدر بن چکی ہے ۔

اس قسم کے شبہہ کا سادہ جواب یہ ہے کہ اہل بیت اور ان کے شیعوں سے دشمنی رکھنے والوں نے شیعوں کو کچل کر ان کے لاشوں پر سے گزر کر کربلا میں امام حسین ؑ اور ان کے باوفا اصحاب کو شہید کیا ۔اسی لئے دشمن کے لشکر میں سب کے سب کاشیعہ ہونا تو دور کی بات ، کوئی ان میں موجود کسی ایسے ایک شخص کا نام نہیں دکھا سکتا جو شیعہ بھی ہو اور امام کو شہید کرنے کربلا بھی آیا ہے ۔ جیساکہ خود امام حسینؑ نے بھی ان لوگوں کا نام کربلا میں لیا جنہوں نے امام کو خط لکھا اور بعد میں انہیں شہید کرنے کربلا آئے اور ان میں ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کا تعلق امام کے شیعوں سے بھی ہو اور آپ کے دشمنوں کے صف میں بھی ہو ۔



[1] . وسائل الشيعة / ج 4 / 221 / 32 - باب جواز الجمع بين الصلاتين لغير عذر أيضا ..... ص : 220

[2] . سنن الترمذي: 354/ 1، رقم الحديث 187، باب ما جاء في الجمع في الحضر./ .(اس قسم کی بہت سی احادیث صحاح ستہ میں موجود ہیں )

[3][3] . برگزیدہ ا ز کتاب ، ہمارے عقائد ، مکارم شیرازی ۔

[4] . برگزیدہ از کتاب ۔ہمارے عقائد ،مکارم شیرازی

[5] . الغدیر ،جلد۵ ،صفحہ ۹۳تا ۲۰۷

[6] ۔برگزیدہ از کتاب ۔ہمارے عقائد ،مکارم شیرازی ۔

[7] . وسائل ، ج ۱۱ ص ۴۶۱حدیث ۶ باب ۲۴

[8] . برگزیدہ از کتاب ۔ ہمارے عقائد ۔ مکارم شیرازی ۔

[9] . برگزیدہ از کتاب ، ہمارے عقائد۔ مکارم شیرازی۔


موضوعات مرتبط: شیعہ عقائد کا مختصر تعارف ۔۔

برچسب: بعض,خاص,اختلافی,مسائل, نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 4:02

صفحه بندی