موت کے بعد فنا اور نابود نہیں ہونا بلکہ آخرت کی جاودانی زندگی کی طرف منتقل ہونا ہے . جہاں پر دنیا میں اچھے کام انجام دینے والے آرام اور سکون سے رہیں گے اور برے کام انجام دینے والے عذاب میں رہیں گے۔موت دنیوی زندگی سے اخروی زندگی کی طرف منتقل ہونے کا ایک پل ہے ۔
قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے : وہ قیامت کے دن تم سب کو جمع کرے گا اور وہی ہارجیت کا دن ہوگا اور جو اللہ پر ایمان رکھے گا اور نیک اعمال کرے گا خدا اس کی برائیوں کو دور کردے گا اور اسے ان باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان ہی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے. ( سورہ تغابن / 9)
دنیوی اور اخروی زندگی کا آپس میں رابطہ:
“ آخرت کی خو شبختی اور بد بختی دنیا میں انجام پانے والے انسانی رفتا ر و کر دا ر کی تا بع ہے. ایما ن اور عمل صا لح اور آخرت کی نعمتوں کے در میان اور اسی طر ح سے کفر اور گنا ہ اور ابدی نعمتوں سے محر ومی کے درمیان منا سبت او ر براہ راست را بطہ پا یا جا تا ہے. [1] ” قرآن میں اس سلسلے میں بہت سی آیات موجود ہیں، ان میں سے دو نمونے :
: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ : وَ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ (الزلزلة / 7/ 8)
پھر جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اسے دیکھے گا .
الْيَوْمَ تُجْزى كُلُّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ لا ظُلْمَ الْيَوْمَ إِنَّ اللَّهَ سَريعُ الْحِسابِ (غافر :17)
آج ہرنفس کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا اور آج کسی طرح کا ظلم نہ ہوسکے گا بیشک اللہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے.
ان آیات کا واضح پیغام یہ ہے کہ “ دنیوی زندگی اور اخروی زندگی میں اٹوٹ رشتہ قائم ہے یہ دونوں زندگیاں ایک دوسرے سے جدا نہیں.اخروی زندگی کا بیج انسان دنیا میں خود کاشت کرتا ہے....رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت خوبصورت فرمایا ہے. الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ[2]. دنیا آخرت کی کھیتی ہے . بدی یا نیکی کا جو بیج بھی دنیا میں کاشت کرو گے‘ آخرت میں اسی کا پھل کاٹ پاو گے.جس طرح سے یہ محال ہے کہ انسان کاشت تو جو کرئے لیکن کاٹے گندم ‘ کانٹے بوئے اور پھول چنے. اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ دنیا میں انسان برے خیال‘ برے اخلاق اور برے کردار کا حامل ہو اور آخرت میں وہ نفع حاصل کرے [3]”
عدل الٰہی اورقیامت کے گواہ :
قیامت کے دن ہر انسان کو عدالت الٰہی میں پیش ہونا ہے اور اپنے کیے کا جواب دینا ہے ۔ وہاں نہ مال کام آئے گا، نہ طاقت اور نہ جھوٹ وغیرہ کے بل پوتے پر جان چھڑا سکے گا ۔ عدالت الٰہی میں حاضری کے وقت اس کے سامنے ایسے گواہ پیش ہوں گے کہ وہ کسی صورت میں انہیں جھٹلا نہیں سکے گا ۔ان میں سے بعض اہم گواہ ؛
الف :خود اللہ : : اللہ ہمیشہ حاضر و ناظر ہے اور انسان کے سارے اعمال اللہ کے حضور انجام پاتے ہیں ۔لہذا قیامت کے دن اللہ خود شاہد بھی ہے اور حاکم بھی ۔ أَوَ لا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يُسِرُّونَ وَ ما يُعْلِنُونَ ( البقرة :77)
کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، خدا کو (سب) معلوم ہے
امیر المومنین ؑ کا فرمان ہے : اتَّقُوا مَعَاصِيَ اللَّهِ فِي الْخَلَوَاتِ فَإِنَّ الشَّاهِدَ هُوَ الْحَاكِم [4].
اللہ کی نافرمانی سے بچو کیونکہ خدا سارے امور پر شاہد ہے اور قیامت کے دن یہی شاہد حاکم بھی ہے ۔
ب : ہمارے اعضاء و جوارح: ہمارے ہاتھ اور پاؤں قیامت کے دن ہمارے اعمال پر گواہی دے گا ۔
الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلى أَفْواهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنا أَيْديهِمْ وَ تَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِما كانُوا يَكْسِبُونَ (يٰسن:65)
آج ہم ان کے منہ پرمہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ بولیں گے اوران کے پاؤں گواہی دیں گے کہ یہ کیسے اعمال انجام دیا کرتے تھے۔
اسی طرح ہمارے کان ، آنکھیں اور ہمارے بدن کی جلد بھی گواہی دے گی ۔
حَتَّى إِذا ما جاؤُها شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ أَبْصارُهُمْ وَ جُلُودُهُمْ بِما كانُوا يَعْمَلُونَ (فصلت:20/21)
ج : خود انسان کا اپنا عمل : انسان عالم قیامت میں اپنے تمام اعمال و آثار کو مجسم حالت میں دیکھے گا اور مشاہدہ کرے گا.اچھے اعمال و آثار نہایت حسین‘ خوبصورت اور لذت بخش شکل میں مجسم ہوں گے اورر سرور و لذت کا باعث بنیں گے. برے اعمال نہایت بدصورت‘ وحشت ناک اور اذیت ناک شکل میں مجسم ہوں گے اور درد و رنج اور عذاب کا باعث بنیں گے.
يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَ ما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَها وَ بَيْنَهُ أَمَداً بَعيداً وَ يُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَ اللَّهُ رَؤُفٌ بِالْعِبادِ (آل عمران :30)
وہ دن جب انسان اپنے ہر نیک کام کو اپنے سامنے حاضر دیکھے گا‘ اسی طرح برے کام کو بھی‘ وہ چاہے گا کہ کاش اس کے اور برے کام کے درمیان میں زیادہ فاصلہ ہوتا.
ج :انسان کا نامہ اعمال (رزلٹ کارڈ):قرآنی تعلیمات کی رو سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان کے سارا کام چاہئے اچھا ہو یا برا سب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے اور جس طرح ایک طالب علم کو امتحان کے بعد رزلٹ کارڈ دیا جاتا ہے۔ قیامت کے دن ہر شخص کے ہاتھ میں اس کا نامہ اعمال دیا جائے گا ۔ اللہ کا ارشاد ہے :
اور ہم نے ہر انسان کے نامہ اعمال کو اس کی گردن میں آویزاں کردیا ہے اور روز قیامت اسے ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح میں پیش کر دیں گے (اور کہے گا )اب اپنی کتاب کو پڑھ لو آج تمہارے حساب کے لئے یہی کتاب کافی ہے. (الإسراء :13/ 14 )
یہ کتاب اچھے لوگوں کے دائیاں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اسے دیکھ کر خوش ہوگا اور اس پر فخر کرئے گا اور برے لوگوں کے بائیاں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اسے دیکھ کر غمگین ہوگا ۔(الحاقة :19...2) اس نامہ اعمال میں موجود اس کے انجام دئے ہوئے چھوٹے بڑے سارے کاموں کو دیکھ کر انسان تعجب کرئے گا ۔(الكهف :49 )
د:زمان و مکان : جس جگہ اور جس دن اچھا یا برا کام انجام پایا ہو یہی مکان اور زمان قیامت کے دن گواہ کے طور پر پیش ہوگا۔
اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے : يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبارَها (الزلزلة:4) قیامت کے دن زمین اس روز وہ اپنے حالات بیان کردے گی۔
رسول اللہﷺ سے منقول ہے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ زمین کس چیز کی خبر دے گی ؟ جواب دیا گیا :اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ فرمایا : زمین کی خبر یہ ہے کہ اس دن وہ ہر بندے اور ہر امت کے بارے میں اس چیز کی گواہی دے گی جو زمین کے اوپر اس نے انجام دیا ہے[5]۔
امیرالمومنین ؑ کا ارشاد ہے : ہر نیا آنے والا دن انسان سے کہے گا: اے فرزند آدم !میں ایک نیا دن ہوں میں تمہارا گواہ رہوں گا ۔پس آج اچھی گفتگو کرو اور اچھا کام انجام دو تو میں قیامت کے دن تمہارے حق میں گواہی دوں گا [6]۔
لہذا قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں سب کو پیش ہونا ہے ۔ اس دن انسان کسی صورت میں اللہ کی عدالت سے فرار نہیں کرسکے گا ۔ کوئی جھوٹ اور دھوکے کے ذریعے اپنی جان نہیں چھڑا سکے گا اور سب کو ایک ایک کیے کا حساب دینا ہوگا ۔
[1] . برگزیدہ از درس عقائد مؤلف : آیة اللہ مصباح یزدی۔
[2] . عوالي اللئالي العزيزية في الأحاديث الدينية / ج 1 / 267
[3] . نقل از ( ابدی زندگی اور اخروی زندگی ،شہید مطہری ۔)
[4] نهج البلاغة (للصبحي صالح) ؛ ص532
[5] . تفسير الصافي ؛ ج 5 ؛ ص358
[6] ۔ الأمالي( للصدوق) / النص / 108 / المجلس الثالث و العشرون