خرید بک لینک

اس دور میں امام ؑچار خاص نمائندوں کے ذریعے لوگوں سے رابطے میں رہے ۔اس دور کو غیبت صغریٰ کا دور کہا جاتا ہے ۔ اس کے بعد آپ کی غیبت کبریٰ کا دور شروع ہوا اور یہ اب بھی جاری ہے ۔

اس سلسلے میں امیر المومنین ؑ سے نقل ہوا ہے : ہمارے قائم کی دو غیبتیں ہیں، ان میں سے ایک طولانی ہوگی ۔ صرف صحیح اور مستحکم ایمان والے ان کی امامت پر ایمان کی حالت میں باقی رہیں گے[1] ۔

آپ اللہ کے اذن سے ایک دن ظہور فرمائیں گے اور جناب عیسیؑ آپ کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور آپ ظلم و ستم کا خاتمہ کر کے ساری دنیا میں عدل و انصاف کا بول بالا کر دیں گے ۔ انشاء اللہ ۔

ہم اور مسئلہ انتظار :

روایات میں امام کے انتظار میں رہنے کو بہترین عبادت قرار دیا ہے ۔رسول اللہﷺ کا فرمان ہے ۔أَفْضَلُ أَعْمَالِ أُمَّتِي انْتِظَارُ فَرَجِ اللَّهِ[2]. میری امت کے بہترین اعمال میں سے ایک امام عصر کا انتظار کرنا ہے ۔اسی طرح معصوم سے نقل ہوا ہے : أَفْضَلُ أَعْمَالِ شِيعَتِنَا انْتِظَارُ الْفَرَج[3].یعنی ہمارے شیعوں کے بہترین اعمال میں سے ایک انتظار فرج ہے ۔

لہذا اگر ہم امام کی معرفت اور ان کی امامت پر ایمان کے ساتھ ان کے آنے کے منتظر رہیں تو ایک عبادت اور نیک عمل ہے ۔ منتظرین کی صفات اور خصوصیات کے سلسلے میں موجود احادیث کو دیکھنے سے واضح ہوجاتاہے کہ اس انتظار کا معنی امام مہدی ؑ کے عالمی انقلاب کے لئے اپنے اور اپنے معاشرے کو ہمیشہ تیار رکھنا ہے ۔ ۔ صحیح انتظار یہ ہے کہ ہم اپنے اندر وہ لیاقت اور صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ جب امام ظہور فرمائیں تو ہم ان کے یار و انصار میں شامل ہوسکے ۔ کیونکہ جس طرح کسی بھی شعبے میں شمولیت کے لئے خاص شرائط کا ہونا ضروری ہے امام عصر ؑ کے یار و انصار میں سے ہونے کے لئے بھی سب سے بنیادی شرط دینی دستوارت کی پابندی ، اخلاقی فضائل سے آراستہ ہونا اور غیر اخلاقی کاموں سے پاک و منزہ ہونا ہے ۔



[1] ۔ منتخب الآثر ، ص 251

[2] . عيون أخبار الرضا عليه السلام / ج 2 ص : 24

[3] . كفاية الأثر في النص على الأئمة الإثني عشر ؛ ص281

1: دوسروں کے پاس اپنے عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے خاص کر احادیث سے اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ جو احادیث آخری زمانے میں ان کے ظہور کی خبر دیتی ہیں ان میں یہی ظہور کا ہی لفظ آیا ہے پیدائش کا لفظ نہیں آیا ہے.

2: حضرت پیغمبر خدا ﷺ اور ان کے خاندان والوں نے خصوصی طور پر ان کی پیدائش اور ظہور کی خوش خبر دی ہے بہت سی متواتر اور قطعی روایتوں کے ذریعے سے یہ خبر ہم تک پہنچی ہے.

3: رسول اللہﷺ کی بہت سی احادیث سے ثابت ہے کہ ہر زمانے میں امام اور حجت خدا کا ہونا ضروری ہے اور ہر زمانے میں لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ ان کی بیعت اور اطاعت میں رہیں ،یہاں تک کہ ان کی معرفت، اطاعت اور بیعت کے بغیر مرے تو وہ جھالت کی موت مرے گا ۔ مَن مَاتَ وَلَم یَعرِف اِمَامَ زَمَانِہِ مَاتَ مِیتَۃَ الجَاھلِیّۃِ ، یعنی جو شخص اپنے زمانے کے امام کو جانے بغیر مرگیا وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے ۔ لہذا اگر امام زمان کے وجود پر عقیدہ نہ ہوں تو رسول خداﷺ کی ان احادیث کا کوئی اور مصداق نہیں ہوگا ۔یہاں بھی شیعوں کے علاوہ دوسرے اس سلسلے میں کوئی واضح جواب دینے اور ان احادیث کا واضح مصداق بتانے سے عاجز ہیں ،جبکہ یہ احادیث ان کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں ۔

امام زمان پردہ غیبت میں ہیں :

ہمارا عقیدہ ہے کہ ہمارے زمانے کے امام پردہ غیبت میں ہیں امام ؑ 260 سے 329 تک خاص وجوہات اور حالات کی وجہ سے لوگوں سے روپوش رہیں اور خاص نمائندوں کے ذریعے سے لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہیں اور ان کے مسائل حل کرتے رہیں۔اس دور میں امام ؑ کے چار خصوصی نمائندے تھے ۔اس دور کو غیبت صغریٰ کا دور کہا جاتا ہے ۔ اس کے بعد آپ کی غیبت کبریٰ کا دور شروع ہوا اور یہ اب بھی جاری ہے ۔ امام سجاد ؑ ،امام حسین ؑ کے واسطے سے نقل کرتے ہیں کہ امیر المومنین ؑ نے فرمایا : ہمارے قائم کی دو غیبتیں ہیں، ان میں سے ایک طولانی ہوگی ۔ صرف صحیح اور مستحکم ایمان والے ہیں ان کی امامت پر ایمان باقی رہیں گے[1] ۔ اور آپ اللہ کے اذن سے ایک دن ظہور فرمائیں گے اور جناب عیسیؑ آپ کے پیچھےے نماز پڑھیں گے اور آپ ظلم و ستم کا خاتمہ کر کے ساری دنیا میں عدل و انصاف کا بول بالا کر دیں گے ۔۔ انشاء اللہ ۔



[1] ۔ منتخب الآثر ، ص 251


موضوعات مرتبط: شیعہ عقائد کا مختصر تعارف ۔۔

برچسب: باریویں,امام, نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 4:02

صفحه بندی