حکومت کی باگ ڈورسنبھالنے کا نام رسول اللہ ﷺ کی جانشینی نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایک حاکم ہونے سے پہلے نبی اور دین کے پیشوا اور ہادی تھے ۔ رسول اللہﷺ کی بنیادی ترین ذمہ داری دین کی حفاظت اور دین کی تبلیغ ہے اور اگر ان کو آپ کی ذمہ داریوں سے جدا کرے تو مقام نبوت اور حکومت میں فرق نہیں ہوگا ۔
امام کے لئے ضروری بنیادی صفات اور شرائط :
امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ کمالات و فضائل میں سب سے افضل ہو ،جیسے عبادت ، اخلاص ، تقوی، دین داری اور دین کی راہ میں قربانی اور اخلاقی فضائل و کمالات وغیرہ میں سب پر برتری رکھتا ہو اور ہر قسم کے رزائل اور نقائص سے پاک ہو ۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ منصب امامت منصب نبوت کی طرح ایک الٰہی منصب ہے اور اس کا تعلق اصول دین سے ہے اور مقام نبوت کی مانند امام کا انتخاب کرنا لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ہمارے علماء امام کے لئے تین شرطوں کو خاص طور سے ذکر کرتے ہیں ۔
معصوم ہونا : یعنی ہر قسم کے گناہ سے اور غلطیوں سے دور ہونا ۔ معصوم ہونے کی وجہ وہی ہے جو نبی کی عصمت کی وجہ ہے۔
اعلم ہونا : جس طرح نبی تمام دینی تعلیمات سے آگاہ ہوتے ہیں اور کوئی شرعی مسئلہ نبی کے لئے مجہول اور نامعلوم نہیں ہوتا ،
نبی کے جانشین کے لئے بھی اعلم ہونا اور تمام دینی مسائل کا جاننا ضروری ہے ۔
منصوص ہونا : امام کو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے نصب ہونا چاہئے ۔ ہم اسی کو نبی ﷺ کا جانشین مانتے ہیں جس کے بارے میں صاحب شریعت کی طرف سے واضح حکم موجود ہو ۔
سوال : رسول اللہﷺ نے کیا کسی کو اپنا جانشین منتخب کیا ؟ اگر منتخب کیا ہے تو وہ کون ہے ؟
بہت سے قطعی دلائل کی بنا پر رسول پاک ﷺ نے اللہ کے اذن سے اپنے بعد جانشین کا انتخاب فرمایا اور امت کو آپ کے بعد ائمہ اہل بیت ؑکی پیروی کرنے ، انہیں دینی پیشوا مان کر دینی تعلیمات کو ان سے حاصل کرنے کا حکم دیا ۔
اس سلسلے میں رسول پاک ﷺ کی بہت سے احادیث موجود ہیں جن میں سے بعض کو ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں ۔
1: حدیث ثقلین : آپ نے خاص کر زندگی کے آخری ایام میں کئی جگہوں پر لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا :
إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا[1]۔
لوگو!میں تمہارے درمیان دو چیزیں اللہ کی کتاب اور میری عترت اہل بیت چھوڑ ے جا رہا ہوں کہ اگر تم لوگ ان دو نوں سے متمسک رہو گے (ان کی پیروی کرو گے ) تو گمراہ نہیں ہوں گے .
یه حدیث ۳۰ کے قریب صحابا سے نقل هوئی ہے اور دوسری ہجری سے تیرویں ہجری تک اہل سنت کے ۳۱۴ سے زیاده علماء نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور اس کی سند کےصحیح ہونے کا اعتراف کیا ہے[2]۔
حدیث کا پیغام : اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے لئے اہل بیت ؑ کی طرف رجوع ضروری ہے ۔ جو کوئی ان کی تعلیمات سے منہ موڑتا ہے اس کے لئے گمراہی اور تباہی سے بچنے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔
2: حدیث غدیر :آخری حج سے واپسی کے دوران رسول اللہﷺ نے غدیر خم نامی جگہ پر سب کو جمع کر کے ایک طولانی خطبہ دیا ۔ اپنی موت کی خبر دی اور تین مرتبہ فرمایا: کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ میں مومنوں پر اُن کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہوں ؟ سب نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہﷺ. پھر آپ نے فرمایا : : من كنت مولاه فعلي مولاه[3]۔ جس کا میں مولا (پیشوا اور سرپرست )ہوں علی اس کے مولا (پیشوا اور سرپرست )ہیں۔
اس حدیث کو 110 اصحاب نے نقل کیا ہے اور اس کی سند کے صحیح ہونے کی زیادہ تر علماء نے تصریح کی ہے [4] .
حدیث کا پیغام : رسول اللہﷺ کے بعد لوگوں کے دینی پیشوا اور سرپرست امیر المومنینؑ ہیں ۔جیسا کہ حضور ﷺ نے دوسری جگہ پر بھی اس کو واضح انداز میں بیان فرمایا۔ إِنَّ عَلِيّاً مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي .[5] علی ؑمجھ سے ہیں اور میں علیؑ سے ہوں اور علی ؑ میرے بعد تم لوگوں کے ولی ہیں ۔
رسول اللہﷺ کی اور بھی بہت سی احادیث ہیں جو واضح طور پر آپ کے بعد امیرالمومنین ؑ علی ابن ابی طالب ؑ کی ولایت اور جانشینی پر دلالت کرتی ہیں مثلا: حدیث سفینہ ، حدیث منزلت ، حدیث یوم الدار ……..
سوال : کیا قرآن مجید سے بھی ائمہ اہل بیت ؑ کی امامت کو ثابت کیا جاسکتا ہے ؟
قرآن مجید نے واضح طور پر امت کو اللہ کے رسول کے دستورات کو ماننے کا حکم دیا ہے ) سورہ حشر : ۷) اور اللہ کے رسول کی اطاعت اور اتباع کو اللہ کی اطاعت اور اتباع کہا ہے (سورہ نساء:80) ۔ لہذا ان کی احادیث کو ماننا قرآن کے حکم کو ماننا ہے ۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کی بہت سی آیات بھی ائمہ اہل بیت ؑ کی جانشینی پر دلالت کرتی ہیں مثلا آیت ولایت ،آیت اکمال ، آیت اھل الذکر، آیت اولو الامر ، آیت کونوا مع الصادقین وغیرہ ۔ ہم یہاں ان میں سے صرف ایک آیت کو پیش کرتے ہیں ۔
آیت ولایت : إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ (المائدة : 55)تمہارا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔
“خدا وند عالم نے اس آیت میں لفظ ،، إِنَّما ،، کے ذریعے بتا یا ہے کہ مسلمانوں کا ولی و سرپرست خود خدا، پیغمبر اور وہ صاحبان ایمان ہیں کہ جونماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں۔آیت کی شان نزول اس بات پر دلیل ہے کہ یہ آیت امیر المومنینؑ کی شان میں اس وقت نازل ہوئی کہ جب آپ نے حالت رکوع میں اپنی انگوٹھی فقیر کو دے دی[6].
سوال : شیعہ کیوں رسول اللہﷺ کے بارہ جانشین ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ؟
رسول اللہﷺ کی ایک مشہور روایت کے مطابق آنحضرت ؐ کے جانشینوں کی تعداد بارہ ہی ہے اور یہ حدیث شیعہ سنی دونوں کی کتابوں میں موجود ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : لايزال الدين قائماحتى يكون اثناعشرخليفة[7]۔یعنی جب تک میرے بارہ جانشین ہیں یہ دین اس وقت تک قائم ہے ۔
سوال : یہ بارہ امام کون کون ہیں ؟
اس سلسلے کے پہلا خلیفہ اور امام، امام علی ؑ ہیں ۔ ان کے بعد امام حسنؑ اور امام حسینؑ اور اسی طرح امام حسینؑ کی نسل سے نو دوسرے امام ہیں ،جن میں سے پہلہ امام زین العابدین ؑ اور آخری امام مہدی ؑہیں۔
جیساکہ اہل سنت کی بعض کتابوں میں بھی ہے کہ رسول اللہﷺ کے بارہ جانشین سے مراد ائمہ اہل بیت ؑ ہی ہیں مثلا آنحضرتؐ سے نقل ہے .:أنا سيد النبيين و علي سيد الوصيين و ان أوصيائي بعدي اثني عشر أولهم علي و آخرهم المهدي[8]۔
میں نبیوں کا سردار ہوں اور علی ؑ وصیوں کا سردار ہیں۔ میرے وصی اور جانشین بارہ ہیں۔ ان میں سے پہلے علی ؑ اور آخری مہدی ؑہیں ۔
اہل بیت ؑ کے توسط سے نقل ہونے والی بہت سی روایات میں بارہ اماموں کے نام بھی بیان ہوئے ہیں[9] ۔
سوال : بارہ جانشین پر اعتقاد کے سلسلے میں شیعوں کا دوسروں کی نسبت سے کیا امتیاز ہے ؟
جواب : شیعوں کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کے یہاں آنحضرتؐ کے بارہ جانشین مشخص ہیں اور یہ سب کے سب جانشینی کے اہل بھی ہیں ۔اسی لئے شیعوں کو بارہ امامی بھی کہا جاتا ہے. شیعوں کےے علاوہ دوسرے اسلامی فرقوں کے علماء ان بارہ جانشینوں کی تشخیص میں شدید اختلاف کا شکار ہیں اور حضور ؐکی طرف سے تعداد مشخص ہونے کے باوجود آج تک ان کے ناموں پر متفق نہیں ہیں[10] ۔
شیعہ حضرات رسول اللہ ﷺ کے بعد بارہ ائمہ اہل بیت ؑ کو ہی ان کا حقیقی جانشین مانتے ہیں اور آنحضرتﷺ کے بعد ان کی پیروی کو واجب سمجھتے ہیں ۔ انہیں اسلامی تعلیمات کا وارث اور محافظ سمجھتے ہیں ۔ان کی تعلیمات اور سیرت پر عمل کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں۔
اماموں کی شخصیت کے بارے ہمارا عقیدہ :
نبی اکرم ﷺ ایک انسان کامل تھے اور کوئی غیر بشری مخلوق نہیں تھے {فصلت.6} .تمام ائمہ اطہارؑ بھی ایسے ہی ہیں.مثلا جناب امیر المومنینؑ جناب ابوطالب ؑکے فرزند ہیں اور جناب فاطمہ بنت اسد ؑکے بطن سے آپ کی ولادت تیرہ رجب کو خانہ کعبہ میں ہوئی .لہذا ائمہ غیر بشری اور مافوق بشر کوئی مخلوق نہیں ہیں ۔ ائمہ اہل بیت ؑ اور دوسروں میں فرق یہ ہے کہ کمالات اور فضائل میں ائمہ انبیاء ؑ کی طرح بشر مافوق ہیں ، یعنی امام انسان ہیں لیکن ایسا انسان کہ جو کمالات اور فضائل میں سب سے آگے ہے ، کوئی فضائل و کمالات میں ان کے برابر نہیں ہے ۔
ہم حضرت علیؑ کے خدا ہونے کا عقیدہ رکھنے کو غلات کا عقیدہ سمجھتے ہیں. ہمارے ائمہ اور علماء نے ایسے لوگوں کو اسلام کے دائرے سے خارج کہا ہے . اسی طرح ائمہ کو مقام ربوبیت ، رازقیت اور خالقیت کے حامل سمجھنا بھی قرآنی آیات کے خلاف ہیں .کیونکہ رازق ،خالق اور رب ہونا اللہ کی صفات میں سے ہے[11] .
[1] - كفاية الأثر في النص على الأئمة الإثني عشر / 163/ المستدرك على الصحيحين - ج3 ص118 - السنة لابن أبي عاصم - ج2 صص644
[2]- نفحات الازهار ،ج 1 ص: 211 -496–
[3] .السنن الكبرى - ج5 ص 131۔ سنن ابن ماجه - ج1 ص 137 / - مصنف ابن أبي شيبة - ج6 ص374
[4]- الغدیر، ج1، ص 41- 144 -
[5] - سنن الكبرى للنسائي [5 /132] صحيح سنن الترمذي [5 /632] فضائل الصحابة [2 /605] السلسلة الصحيحة المجلدات الكاملة 1-9 [5 /2222]
[6] . الجامع لأحكام القرآن ج 6 ص222 /الدر المنثور ج 2ص293/ الكشاف ج 1 ص 649 /مفاتيح الغيب ج 12ص3833
[7]۔ مسند أبي يعلى الموصلي (13/ 456)ِمسند أحمد - ج5 ص 89- المعجم الكبير - ج2 ص208-
[8]- فرائد السمطين للجويني الشافعي ج2 ص 313 - ينابيع المودة ج 3 باب 94
[9] .دیکھیں کتاب ، كفاية الأثر في النص على الأئمة الإثني عشر .
[10]۔ ملاحظہ کریں ، فتح الباري لابن حجر،ج20 ص 266 ۔
[11] . {بقرہ ،آیت 22} { سورہ نمل ،آیت 64}(شوری : 19)