یقینا انسان کی خلقت کا ایک مقصد اور ہدف ہے ۔اس ہدف تک پہنچانے کے لئے ہادی کا ہونا ضروری ہے ورنہ یہ حکمت الٰہی کے منافی ہوگا ۔
سوال : انسان کے پاس عقل جیسی عظیم نعمت ہے.عقل سعادت مند زندگی گزارنے کے اصول و قوانین مرتب کرسکتی ہے۔لہذا نبی اور وحی کی کیا ضرورت ہے ؟
جواب :الف: سعادت مند زندگی گزارنے کے لئے عقل ضروری ہے لیکن کافی نہیں ۔ عقل کا دائرہ محدود ہے ،انسان کی عقل بہت سی چیزوں کو سمجھ سکتی ۔ لیکن تمام تر علمی ترقی کے باوجود انسان کی معلومات مجہولات کے مقابلے میں سمندر اور قطرے کی مانند ہیں ۔ انبیاء ؑ انسانی سعادت کے لئے درپیش وہ دستورات لے کر آتے ہیں جن تک عقل کی رسائی نہیں ہے ۔
لہذا اگر کوئی وحیانی علوم کا انکار کرے تو اس کی مثال ایسی ہے کہ وہ ایک چراغ دیکھ کر سورج کی روشنی سے بے نیازی کا اظہار کرے۔ یا ایک سٹوڈنٹ آٹھویں کلاس کے بعد یہ کہے کہ میں تمام چیزوں کو جانتا ہوں ،اب مجھے کسی معلم اور تعلیم کی ضرورت نہیں ۔
ب : انسان کے وجود میں عقل کے علاوہ دوسرے غرائز اور میلانات بھی ہیں ۔مثلا خود پسندی ، شہوت ،غضب وغیرہ جو انسان کے اندر ہیں ان کی صحیح تربیت نہ ہو تو یہ چیزیں عقل پر غالب آئیں گی اور اس کے نتیجے میں جو انسان وجود میں آئے گا وہ انتہائی خطرناک قسم کا انسان ہوگا۔لہذا ایک کامل اور تربیت یافتہ انسان کا ہونا ضروری ہے جو غرائز کے طوفان سے بچنے اور اخلاقی فضائل سے متصف ہونے میں ہمارے لئے نمونہ عمل بنے ۔
لہذا انبیاء کا اہم مقصد انسانی زندگی پر عقل اور شریعت کی حاکمیت کو برقرار رکھنا اور انہیں نفسانی خواہشات اور حیوانی غرائز کے تباہ کن راستوں سے نجات دلا کر ہدف خلقت کے راستے پر کامزن کرنا ہے۔
انسان وحی اور عقل کی ہدایت کے سائے میں ہی سعادت مند ہوسکتا ہے ،تنہا عقل انسان کی سعادت کے لئے کافی نہیں ہے
ارشاد پروردگار ہے : ایمان والوں پر اللہ نے بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاکیزہ کرتااور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے جب کہ اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے(آل عمران164)
انبیاء ؑ کی بنیادی خصوصیات :
نبی تمام کمالات اور فضائل سے متصف ہوتے ہیں اور اپنے زمانے کے سب سے باکمال اور با فضیلت شخصیت ہی نبی ہوتے ہیں۔ نبی کے لئے ضروری ہے کہ مقام عصمت پر فائز ہوں ۔یعنی وہ ہر قسم کی گناہ اور خطاء سے محفوظ ہوں ۔ اسی لئے تمام انبیاء الہی معصوم تھے .
نبی کا معصوم ہونا کیوں ضروری ہے ؟
جواب : اگر وہ گناہ یا خطاء کے مرتکب ہوں تو مقام نبوت پرسے لوگوں کا اعتماد ختم ہوجائے گا اور لوگ نبی کو اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ اور انہیں زندگی کے تمام امور میں اپنا راہنما و آئیڈیل بنانے سےے مطمئن نہیں ہوں گے۔ جبکہ نبی کا کام لوگوں کی ہدایت اور لوگوں کا کام نبی کی اطاعت ہے ۔ اگر نبی سے اعتماد اٹھ جائے تو کوئی نبی کی اطاعت نہیں کرتا . لہذا جس مقصد کے لئے نبی مبعوث ہوتا ہے وہ مقصد حاصل نہیں ہوگا اور لوگ ہدایت کے راستے پر گامزن ہونے سے محروم رہیں گے ۔ بنابریں اللہ کسی غیر معصوم کو اپنا نمائندہ اور نبی نہیں بناتا ہے ۔
انبیاء ؑ اور رسولوں کی تعداد کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی ۔انبیاء ؑمیں پانچ حضرات اولو العزم اور صاحب شریعت ہیں، جن کے پاس آسمانی کتابیں اور نئی شریعت تھیں اور یہ حضرت نوح ؑ ، حضرت ابراہیم ؑ ،حضرت موسیؑ ، حضرت عیسیؑ اور ان میں آخری حضرت محمد ﷺہیں۔
حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی :
ہمارے نبی ﷺ اللہ کے سب سے آخری نبی اور سب سے بافضیلت اور کامل شخصیت ہیں ۔ آپ کی نبوت کے دو اہم دلیلیں ۔
الف : سابقہ انبیاء کی بشارتیں :
سابقہ انبیاء ؑ نے حضور پاکﷺ کے آمد کی خوشخبری اور آپؐ کی خصوصات سے اپنی امتوں کو آگاہ کیا تھا ، اسی لئے قرآن مجید میں آیا ہے : الَّذينَ آتَيْناهُمُ الْكِتابَ يَعْرِفُونَهُ كَما يَعْرِفُونَ أَبْناءَهُمُ ... {الأنعام :20}
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے { یعنی یہود و نصاری } وہ اس (رسول) کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں.
اسی لیے ان ادیان کے بہت سے پیروکار آپ ؐ کے ظہور کے انتظار میں تھے اور بہت سے لوگ ہجرت کر کے سرزمین حجاز میں آباد ہوئے تھے تاکہ اعلان نبوت کے ساتھ ہی آپ پر ایمان لاسکے اور آپ کی مدد کرسکے ۔
ب : قرآن مجید آپ کا سب سے بڑا معجزہ ہے :
معجزے کا مطلب دوسروں کو اس کے مقابلےسے عاجز کرنا ہے . قرآن رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر سب سے بڑی دلیل ہے اور رسول اللہﷺ کے سارے مخالفین آپ کی نبوت کی اس اہم ترین دلیل کا توڑ پیش کرنے سے عاجز ہیں . قرآن مجید خاص کرقدرت بیان، کلام کی فصاحت وبلاغت کی جہت سےبے مثال ہے ۔قرآن مجید نے رسول اللہﷺ کی نبوت کا انکار کرنے والوں کو چیلنچ کیا ہے کہ اگر یہ کہتے ہیں کہ یہ آسمانی کتاب اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور نہ ہی حضرت محمد ﷺاللہ کے رسول ہیں تو اس قرآن کی مثل لے آؤ حتی اس کا جیسا ایک سورہ لے آؤ[1].
قرآن مجید صرف فصاحت و بلاغت کی دلکشی اور عربی ادب کے اعتبار سے معجزہ نہیں ۔بلکہ بلند الٰہی معارف اور حقائق پر مشتمل ہونے ، انسان کی تمام ضرورتوں کا حقیقی حل پیش کرنے اور غیبی خبروں وغیرہ کے اعتبار سے بھی معجزہ ہے ۔
قرآن چودہ سو سال گزرنے کے باوجود آج بھی مخالفین کو للکار رہا ہے ، لیکن جس طرح سے پہلے والے قرآن کے دشمن قرآن کا مقابلہ نہ کرسکے آج بھی قرآن کے دشمنوں کا یہی حال ہے۔ لہذا قرآن مجید آج بھی ایک زندہ معجزہ ہے اور رسول اللہﷺ کی نبوت اور اسلام کی حقانیت پر بہترین دلیل ہے ۔
دین اسلام اور ادیان الٰہی :
دین اسلام اللہ کا آخری ، کامل ترین اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین ہے : (المائدة : 3)۔
لہذا پچھلے سارے ادیان منسوخ ہوچکے ہیں اور اب ان کی کتابوں کے احکام اور ضابطوں پر عمل کرنا واجب نہیں رہا اور اسلام کے بعد کوئی ٕ مذہب نہیں آیے گا ۔ سب پر واجب ہے کہ دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی پیروی نہ کرے اور جو اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین تلاش کرے گا تو وہ دین اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ قیامت کے دن خسارہ والوں میں ہوگا۔{ آل عمران :85 }
عقلی لحاظ سے دوسرے ادیان کی تعلیمات پر عمل نہ کر سکنے کی دلیل کیا ہے ؟
ایک تو دوسرے ادیان کی تعلیمات صحیح طور پر محفوظ نہ رہ پائی ہے ۔دوسرا یہ ہے کہ دین اسلام دوسرے ادیان کی نسبت سے ایسا ہے کہ جس طرح سے ایک بچہ پریپ ،نرسری سے ہوکر یونورسٹی سے فارغ ہو ۔ شریعت اسلام کامل ترین شریعت ہے ۔ قیامت تک کے لئے انسانی ہدایت اور سعادت و کامیابی کے تمام ضروری امور دین اسلام میں موجود ہیں ۔لہذا دین اسلام کو چھوڑ کر دوسرے ادیان کا انتخاب کرنا ایسا ہی ہے کہ گویا ایک شخص جس کے پاس آخری درجے کی ڈگری ہو اسے چھوڑ کر وہ ابتدائی کلاسوں کے پچھے چلا جائے ۔
ختم نبوت :
ختم نبوت سے کیا مراد ہے ؟
دین اسلام کے بعد کسی کامل دین کی آمد قابل تصور نہیں. اللہ نے اس کامل ترین دین کو کامل ترین فرد یعنی حضرت محمد ﷺ کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچا یا اور آپ ؐکے بعد کسی اور نبی کی آمد متوقع نہیں ۔نبوت کا سلسلہ آپ پر آکے ختم ہوجاتا ہے اور یہ عقیدہ سارے مسلمانوں کا مشترکہ عقیدہ ہے ۔کیونکہ یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے ۔ قرآن مجید نے آپ کے آخری نبی ہونے کی گوہی دی ہے.( احزاب،آیت 40)
اس سلسلے میں متعدد روایات بھی موجود ہیں ۔مثلا رسول اللہ ﷺکی مشہور حدیث “حدیث منزلت میں آپ نے فرمایا:
أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي[2]۔
یا علی ؑ ! کیا آپ اس بات پر خوش نہیں کہ آپ کی میرے ساتھ وہی نسبت ہے جو ہارونؑ کی موسیٰؑ سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد سلسلہ نبوت ختم ہوگا ؟
ایک شبہہ اور اس کا جواب :
سارے نبی اور رسول صاحب شریعت اور صاحب کتاب نہیں تھے ۔ بلکہ ان میں سے اکثر کا کام سابقہ نبی کی شریعت کی تبلیغ اور حفاظت تھا۔ اس بنا پر کسی صاحب شریعت نبی یا رسول کے نہ آنے کا مطلب ختم نبوت یا ختم رسالت نہیں ہے ۔لہذا کیوں اس شریعت کی حفاظت اور تبلیغ کرنے والے نبی یا رسول نہیں آسکتے ؟
جواب : پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی مسلمان کے لئے قرآن و رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو ماننے کے بعد ختم نبوت کو نہ ماننے کی گنجائش نہیں ۔ اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ اللہ نے اس دین کی حفاظت کا بندوبست کیا ہے اور اس دین کے محافظ اور پیشوا کا تعین کر کے لوگوں کو ان کی پیروی کی صورت میں گمراہی سے نجات کی ضمانت دی ہے[3]۔ لہذا نہ کسی دین کی ضرورت ہے نہ کسی تبلیغی نبی کی ضرورت ہے۔
نبوت پر ایمان کے تقاضے : رسول کی رسالت کو ماننا اور اس پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر حالت میں ان کی تعلیمات اور سیرت کی پیروی کرئے ۔ ان کے فرمان پر عمل کرنا اللہ کے حکم پر عمل کرنا ہے اور ان کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے ۔ ہماری ذمہ داری رسول اللہﷺ کے سیرت اور فرامین پر عمل پیرا ہونا ہے[4] .
[1] . ۔ (الإسراء :88) ( بقرہ :23)
[2] ۔ صحيح مسلم: 7/ 120، باب من فضائل علي بن أبي طالبؑ[4 /1870]
[3] .انشاء اللہ امامت کی بحث میں اس کی وضاحت ہوگی ۔
[4] ۔ ملاحظہ کریں / نساء ۔۱۴ / احزاب ۳۶/ النساء : 80/ حشر آیت 4 ۔