خرید بک لینک

توحید کی مشہور اقسام درج ذیل ہیں ۔

الف : توحید ذاتی : یعنی خدا ایک ہی ہے کوئی اس کا شریک اور مثل نہیں۔

ب : توحید صفاتی : یعنی خدا کی صفات اس کی عین ذات اور ذاتی ہے ۔ خدا مخلوقات کی طرح نہیں جن کی ذات اور صفات اور خود صفات آپس میں ایک دوسرے سے جدا ہوتی ہیں .لہذا خدا اور خدا کی صفات چینی اور مٹھاس کی مانند ہیں ۔ کوئی بھی ان صفات و کمالات میں خدا کی مانند نہیں ۔ خدا کی صفات نامحدود ہیں جبکہ دوسروں کی صفات محدود ہیں۔

ج : توحید افعالی : یعنی اس جہاں میں جو بھی حرکت اور تاثیر وغیرہ موجود ہے. ان سب کا سرچشمہ خدا کا ارادہ اور اس کی مشیت ہے ۔کوئی بھی کام اللہ کی مرضی اور مشیت کے بغیر انجام نہیں پاسکتا ۔

د: توحید عبادت : یعنی عبادت صرف اللہ کے ساتھ مختص ہے، کسی اور کی عبادت جائز نہیں ۔ عبادت کے لائق صرف اللہ ہی کی ذات ہے ۔

توحید کی ان مشہور اقسام کے علاوہ اور بھی اقسام ہیں ،مثلا توحید رازقیت (رزق دینے والا صرف اللہ ہے) ۔ توحید خالقیت( یعنی خلق کرنے والا صرف اللہ ہے ، اللہ کی ذات ہی تمام اشیاء کا خالق ہے ) ، توحید حاکمیت ( یعنی حکم صرف اللہ کا چلے گا ، اللہ کے بندوں اور اللہ کی زمین پر حکومت صرف اللہ کی ہوگی )۔

صفات خدا وند کی دو قسمیں :

الف : ثبوتیہ: وہ کمالات اور صفات جو خدا میں پائی جاتی ہیں مثلا علم ، قدرت ، حکمت ، رازقیت ۔

ب :سلبیہ : وہ امور جن کو خدا کی طرف نسبت دینا صحیح نہیں مثلا جسم ، دیکھ سکنا ، ظلم شریک ، زمان و مکان وغیرہ کا ہونا ۔

سوال : توحید پر عقیدہ رکھنے والے شخص کو کس قسم کے کردار کا حامل ہونا چاہئے ؟

جواب :1 :موحد وہ ہے جو اللہ کی پاک ذات کی ہی عبادت کرتا ہے کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا ۔ وہ اللہ کی عبادت خاص کر نماز سے نہیں بھاگتا ۔ دل و جان سے نماز پڑھتا ہے ۔ نماز انسانوں کو یہ بات یاد دلاتی ہے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں ،شیطان اور نفسانی خواہشات کے بندے نہیں ۔

2 : موحد صرف اللہ کا مطیع ہوتا ہے اور شیطانی خواہشات کے مطیع نہیں ہوتا ۔ موحد الٰہی دستورات کو دل وجان سے قبول کرتا ہے ۔وہ یہ نہیں کہتا کہ میرا دل چاہتا ہے میں ایسا کروں بلکہ وہ یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ میں وہی کرتا ہوں جس سے میرا رب راضی ہے۔

3: موحد وہ ہے جو اللہ کو ہی اپنا رازق ، خالق اور رب جانتا ہے ۔اللہ کے علاوہ کسی کی ربوبیت ،رازقیت اور خالقیت کا عقیدہ نہیں رکھتا ۔

4: موحد صرف اللہ کے احکام کی پیروی کرتا ہے اور قوانین الٰہی کی بالادستی کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی زندگی اور اپنے گھر اور معاشرے کے ماحول کو دینی دستورات کے مطابق چلانے کی کوشش کرتا ہے ۔ اللہ کی سرزمین پر اللہ کے احکام اور قوانین کا جاری ہوتے دیکھنا چاہتا ہے ۔

5: موحد خدا کو حاضر و ناظر جانتا ہے۔ وہ اس یقین کے ساتھ زندگی گزارتا ہے کہ اللہ اس کے سارے اعمال پر ناظر ہے۔ اس کا ہر عمل خدا کے سامنے عیاں اور آشکار ہے لہذ وہ گناہوں سے دور رہتا ہے ۔

جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَ هُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ ما كُنْتُمْ وَ اللَّهُ بِما تَعْمَلُونَ بَصيرٌ ( الحديد: 4)

اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی رہو اور وہ تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔

امیر المومنین ؑ کا ارشاد : اللہ کی نافرمانی سے بچو کیونکہ خدا سارے امور پر شاہد ہے اور قیامت کے دن یہی شاہد حاکم بھی ہے [2].

سوال : بعض لوگ اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھنے کے باوجود کیوں ہر جائز ناجائز طریقے سے دنیا کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جھوٹ اوردھوکا بازی سے کام لیتے ہیں، دوسروںں کے حقوق پامال کرتے ہیں ، واجبات کی پروا نہیں کرتے اور محرمات سے نہیں بچتے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے شخص کا اللہ کی معرفت اور اللہ پر ایمان کمزور ہے ۔ خواہشات کی پیروی نے اسے اندھا کر دیا ہے۔ وہ اپنے ایمان کے لوازمات سے غافل ہے اور وہ اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے سے عاجز ہے۔


موضوعات مرتبط: شیعہ عقائد کا مختصر تعارف ۔۔

برچسب: توحید,ہمارا,عقیدہ۔, نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 4:02

صفحه بندی