خرید بک لینک

(إِنَّ اﷲَ رَبِّی وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاط مُسْتَقِیم )

بیشک ہمارا اور تمہارا رب خدا ہے اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔

(ذَلِکُمْ اﷲُ رَبُّکُمْ لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ فَاعْبُدُوهُ )

وہی خدا تمہارا رب ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے وہ تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ تم اسی کی عبادت کرو۔

سورہ دخان میں خدا فرماتا ہے:

(لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ یُحْیِ وَیُمِیتُ رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبَائِکُمْ الْأَوَّلِینَ )

ایک پروردگار کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے وہ زندگی اور موت کا دینے والا ہے وہ تمہارا پروردگار ہے اور تمہارے آباء و اجداد کا پروردگار ہے۔

قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ کی حکایت کرتے ہوئے کہا:

( وَقَالَ الْمَسِیحُ یَابَنِی إِسْرَائِیلَ اعْبُدُوا اﷲَ رَبِّی وَرَبَّکُمْ)

حضرت عیسیٰ ـ نے فرمایا:اے بنی اسرائیل تم خدا کی پرستش کرو وہ ہمارا اور تمہارا رب ہے۔

بہرحال بیان گزشتہ کی روشنی میں یہ معلوم ہوگیا کہ ربوبیت کے عقیدہ یا کسی موجود کی طرف خدائی کاموں کی نسبت دیئے بغیر عبادت کا عنوان پیدا نہیں ہونا چاہے، خضوع اور فروتنی اپنی انتہا تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔

برچسب: توحید,عبادت,صرف,اللہ, نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 28 مرداد 1396 ساعت: 4:02

صفحه بندی