لہذا اگر کوئی اپنے عقیدے پر دلیل کے طور پر رسول اللہ کی صحیح سند احادیث رکھتے ہو تو اس عقیدے کو کسی اور کی طرف نسبت دینا غیر ذمہ دارانہ کام ہے ۔۔
لہذا پہلا نہ جس کی وجہ سے شیعہ دوسروں سے جدا ہو وہ یہ ہے کہ اہل بیت کے بارے میں رسول اللہ کے واضح فرامین کو نظر اندا ز کرنے سے شیعوں نے انکار کیا اور ان فرامین کی رعایت اور ائمہ اہل بیتؑ کی جانشینی کی آوا ز بلند کی اور یہ موقف اختیار کیا کہ رسول اللہ کے فرمان کے مقابلے میں کسی اجتہاد کی کنجائش نہیں ہے، اس احتجاج کے نتیجے میں اکثریت سے جدا ہوئے چنانچہ احتجاج کرنے والے اور اہل بیت کی طرفداری کرنے والے اصحاب ہی کا ایک گروہ تھا جبکہ اکثریت نے وقتی مصلحت کی بنا پر رسول اللہ کے ان دستورات کو نہیں ماننا اور اپنے اجتہاد پر عمل کیا ۔
دوسرا نہ ۔۔۔۔۔۔۔
امام علیؑ کو خلیفہ دوم نے اپنے بعد خلیفہ انتخاب کرنے کے لئے جس کمیٹی میں رکھا تھا اس کمیٹی نے آپ کے سامنے یہ شرط رکھی کہ آپ قرآن اور سنت کے علاوہ خلیفہ اول اور دوم کی سیرت پر چلنے کا عہد کریں ۔لیکن جب امام نے دوسری شرط کو قبول کرنے سے انکار کیا تو اس بات پر آپ کو خلافت سے محروم کر دیا گیا۔امام کے اس اقدام کے دو اہم معنی یہ ہیں :
الف: اگر امام ان کے طرز عمل کو قبول کر کے انھیں شرعی طور پر خلیفہ مانتے اور ان کی بیعت کر چکے ہوتے تو کیوں آپ نے ان کی سیرت کو اس قابل نہ جانا کہ جس کو نہ ماننے کے نتیجے میں خلافت سے محروم ہو جانا بھی آپ کو قبول تھا ؟[1]
ب: یہاں سے یہ نتیجہ بھی لے سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی باتیں امام علیؑ کی نظر میں غلط ہیں کہ جو رسول پاکؐ کی حدیث میں موجود لفظ ’’خلفاء راشدین‘‘کے مصداق ان خلفاء کو قرار دے کر یہ استدلال کرتے ہیں کہ ان خلفاء کی سیرت پر عمل کرنا اور ان کی سیرت کا حجت ہونا رسول پاکؐ کی حدیث سے ثابت ہے۔کیونکہ یہ بات اگر صحیح ہوتی تو امام علی ان کی سیرت کی تائید کرتے۔
ج: امام نے اس طرز عمل کے ذریعے اپنے ہم فکروں اور پیروکاروں کے راستے کو دوسروں سے جدا کر دیا ۔
لہذا شیعہ وہ ہیں کہ جو اہل بیت کے بارے میں موجود رسول پاک کی احادیث سے صرف محبت اور احترام کا معنی نہیں لیتے بلکہ اس سے مراد آنحضرت کے بعد ان کی اطاعت اور پیروی کا واجب ہونا لیتے ہیں ۔انہیں خاص کو دینی پیشوائی کے مسئلے میں رسول اللہ کا جانشین مانتے ہیں ۔
.[1]۔ تاريخ ابن خلدون، ج 2، ص 265؛ الكامل التاريخ، ج 2، ص 444؛ تاريخ اسلام الذهبي، ج 3، ص ۔ 304