خرید بک لینک

کیا انبیا٫اور اولیا٫سے توسل کرنا، ان کی عبادت کرنا کہلائے گا ؟

’’ہمارا عقیدہ ہے کہ توسل کا مسئلہ بھی شفاعت کی طرح ہے۔ یہ مسئلہ مادی و معنوی مشکل میں بھنسے ہوئے لوگوں کو امید اور اجازت دیتاہے کہ اولیاء الھی کے دامن کا سہارا لیں تا کہ اللہ تعالی کے اذن سے وہ ان کی مشکلات کو حل کرا دیں۔ یعنی ایک طرف تو وہ خود اللہ کی بارگاہ میں حضور پیدا کریں اور دوسری طرف اولیاء الھی کو اپنا وسیلہ قرار دیں[1]‘‘

جیساکہ جناب یوسف کے قصے میں ان کے بیٹوں نے اللہ سے معافی مانگنے کے لئے اپنے والد جناب یعقوب کو وسیلہ قرار دیا اور جناب یعقوب کی بینائی واپس لانے کے لئے جناب یوسف کی قمیض کو ان کے چہرے پر ڈالنے کا حکم دیا ۔

اسی طرح قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ کو وسیلہ قرار دینے کے بارے میں ہے ۔ وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جاؤُكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّاباً رَحيماً(النساء :64}۔

اگر وہ لوگ خود پر ظلم کرنے اور گناہ کے مرتکب ہونے کے بعد، آپ کے پاس آتے اور اللہ سے طلب بخشش کرتے اور رسول خدا (ص) بھی ان کے لیے طلب غفران کرتے تو خداوند عالم کو معاف کرنے والا اور مہربان پاتے۔

اصحاب پیامبر کی سیرت بھی یہی تھی ۔ چند نمونے ؛

برچسب: نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: جمعه 28 دی 1397 ساعت: 2:52

صفحه بندی