خرید بک لینک
توحید اور شرک کا معیار کیا ہے ؟

کسی عمل کے عبادت ہونے کا معیار کیا ہے ؟

اللہ کے علاوہ کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔غیر اللہ کی عبادت جائز نہ ہونا سب کا متفق علیہ عقیدہ ۔لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ عبادت صرف کسی کی تعظیم اور کسی کو وسیلہ قرار دینے اور کسی سے مدد مانگنے کو نہیں کہا جاتا۔ بلکہ یہاں اس کی ربوبیت اور الوھیت کا عقیدہ ہونا بھی چاہئے [1]۔ لہذا اس عقیدہ کے بغیر صرف کسی کے سامنے خضوع اور کسی کی تعظیم اور کسی کے آگے جھکنے اور کسی سے توسل کرنے کو اس کی عبادت کرنا نہیں کہا جاسکتا۔ قرآن مجید سے چند نمونے ۔

الف : اللہ نے ملائکہ کو جناب آدم ؑکے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔

فَإِذا سَوَّيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فيهِ مِنْ رُوحي فَقَعُوا لَهُ ساجِدينَ { ص .ایت.72}

جب اس کو درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا.{ترجمہ جالندهری}

ب : جناب یعقوبؑ اور ان کے بیٹوں نے جناب یوسف ؑکے آگے سجدہ کی۔ا۔

وَ رَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوا لَهُ سُجَّداً وَ قالَ يا أَبَتِ هذا تَأْويلُ رُءْيايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَها رَبِّي حَقًّا.{یوسف /100}

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسف(ع) کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا: ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا[2]۔

ج : والدین کے آگے خاضعانہ طور پر جھکنے کا حکم دیا :

وَ اخْفِضْ لَهُما جَناحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَبِّ ارْحَمْهُما كَما رَبَّياني صَغيراً { الاسرا . 24 }

اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما .

یقینا یہاں سجدے سے مراد ان کی عبادت کرنا نہیں بلکہ ان کی تعظیم ، ان کی عظمت کے آگے سر جکانا اور ان کا احترام کرنا ہے ۔ ممکن ہے کوئی اعتراض میں یہ کہے : یہ اللہ کے حکم سے تھا ۔لہذا یہ اللہ کے لئے ہے یا اللہ کے حکم سے نبی کو سجدہ کرنا ہے اور جب اللہ کا حکم ہو تو یہ غیر اللہ کی عبادت نہیں کہلائے گا ۔

لیکن پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن مجید میں جناب یوسف ؑکے آگے سجدہ کرنے کا کوئی حکم ذکر نہیں ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر اللہ کے حکم سے کسی کے آگے جھکنا اور کسی کی تعظیم کرنا ، کسی عمل کا عبادت کے دا ئرے سے خارج ہونے کا سبب بن سکتا ہے ،تو اس سے یہ بات ثابت ہوگی کہ اگر کسی کی تعظیم اور کسی کے آگے خضوع سے پیش آنے پر دلیل ہو تو یہ عمل شرک اور عبادت نہیں کہلائے گا اور اگر کوئی اس عقیدے کے ساتھ کسی کی تعظیم کرے کہ یہ کام اللہ کے حکم اور مرضی کے مطابق ہے تو ایسے شخص کو مشرک اور کافر نہیں کہا جاسکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا یہ کام غلط ہے ۔لیکن اس کو مشرکانہ کام کہنا زیادہ روی ہے ۔

[1] ۔جیساکہ سورہ ا ٓل عمران کی ۶۴ نمبر آیت اور سورہ توبہ کہ ۳۱ نمبر آیت میں خاص کر اہل کتاب کا غیر اللہ کی عبادت اور اللہ کے لئےشریک ٹہرانے کے مسئلے کو غیر اللہ کو رب ماننے کے مسئلے کے ساتھ منسلک کر کے اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

[2] . سورہ یوسف کی 4 نمبر آیت دیکھیں ۔

برچسب: نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: جمعه 28 دی 1397 ساعت: 2:52

صفحه بندی