خرید بک لینک

اگر آپ کا استاد کام چوری کی وجہ سے غصے میں کہے نکل جاو ،نکل جاو ،نکل جاو۔۔ تو کتنے مرتبہ کلاس سے نکالنا کہا جائے گا؟

شریعت اسلامی میں طلاق کو ایک کراہت والا کام سمجھا گیا ہے۔ اسی لئے شیعہ نقطہ نظر سے ایک ہی نشست میں تین مرتبہ طلاق کہنے سے تین طلاق نہیں ہوتا بلکہ ضروری ہے کہ الگ الگ نشست میں دیا جائے اور طلاق دینے کے لئے دو گواہ بھی ضروری ہیں۔

صحیح مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے:عن ابن عباس قال: كان الطلاق على عهد رسول اللّه و أبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة فقال عمر بن الخطاب: إنّ الناس قد استعجلوا في امر قد كانت لهم فيه اناة فلو امضيناه عليهم فامضاه عليهم(صحيح مسلم، ج 2، ص 1099، كتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث، ح 17 - 15.سنن أبي داود، ج 2، ص 261، كتاب الطلاق، باب نسخ المراجعه بعد التطليقات الثلاث، ح 2199 و 2200.سنن نسائى، ج 6، ص 145، كتاب الطلاق، باب 8، ح 3403.)

یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے زمانے میں اور ابوبکر کے زمانے میں اور عمر کے زمانے میں دو سال تک ایک نشست کے تین طلاقوں کو ایک ہی مانا جاتا تھا۔ پھر عمر نے رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے حکم کو بدل دیا۔

اس طرح ایک نشست میں تین بار طلاق سنت نبوی نہیں بلکہ عمر کی ایجاد کردہ بدعت ہے جس سے تمام مسلمانوں کو پرہیز کرنا چاہئے۔ ( باتشکر از سائٹ ولی العصر)

برچسب: نویسنده: میلاد هاشمی تاريخ: شنبه 30 شهريور 1398 ساعت: 19:37

صفحه بندی