
شیعہ اماموں کو رسول اللہﷺ کا جانشین مانتے ہیں ۔آئمہ کی تعلیمات کی روشنی میں شیعہ ہونا ان سے ہمفکری اور ان کی سیرت و کردار کے مطابق زندگی گزارنے سے عبارت ہے ۔چھٹے امام ؑ سے اس سلسلے میں نقل ...
ادامه مطلب
ہم نے اس تحریر میں امام زمانؑ کے خلاف جسارت کرنے والوں کے فکری مرجع یعنی ابن تیمیہ اور ا س کے شاگردوں کی طرف سے شیعہ عقیدہ مھدویت پر اٹھائے اعتراضات اور شبھات کا مختصر علمی جواب دینے ...
ادامه مطلب
توحید کی مشہور اقسام درج ذیل ہیں ۔ الف: توحید ذاتی : یعنی خدا ایک ہی ہے کوئی اس کا شریک اور مثل نہیں۔ ب :توحید صفاتی : یعنی خدا کی صفات اس کی عین ذات اور ذاتی ہے ۔ خدا مخلوقات کی طرح نہیں جن کی ذات اور صفات اور خود صفات آپس میں ایک دوسرے سے جدا ہوتی ہیں .لہذا خدا اور خدا کی صفات چینی اور مٹھاس کی مانند ہیں ۔ کوئی بھی ان صفات و کمالات میں خدا کی مانند نہیں ۔ خدا کی صفات نامحدود ہیں جبکہ دوسروں کی صفات محدود ہیں۔ ج : توحید افعالی : یعنی اس جہاں میں جو بھی حرکت اور تاثیر وغیرہ موجود ہے. ان سب کا سرچشمہ خدا کا ارادہ...
ادامه مطلب
یقینا انسان کی خلقت کا ایک مقصد اور ہدف ہے ۔اس ہدف تک پہنچانے کے لئے ہادی کا ہونا ضروری ہے ورنہ یہ حکمت الٰہی کے منافی ہوگا ۔ سوال: انسان کے پاس عقل جیسی عظیم نعمت ہے.عقل سعادت مند زندگی گزارنے کے اصول و قوانین مرتب کرسکتی ہے۔لہذا نبی اور وحی کی کیا ضرورت ہے ؟ جواب :الف: سعادت مند زندگی گزارنے کے لئے عقل ضروری ہے لیکن کافی نہیں ۔ عقل کا دائرہ محدود ہے ،انسان کی عقل بہت سی چیزوں کو سمجھ سکتی ۔ لیکن تمام تر علمی ترقی کے باوجود انسان کی معلومات مجہولات کے مقابلے میں سمندر اور قطرے کی مانند ہیں ۔ انبیاء ؑ انسانی سعادت کے لئے درپیش وہ دستورات لے کر آتے ہیں جن تک عق...
ادامه مطلب
حکومت کی باگ ڈورسنبھالنے کا نام رسول اللہ ﷺ کی جانشینی نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایک حاکم ہونے سے پہلے نبی اور دین کے پیشوا اور ہادی تھے ۔ رسول اللہﷺ کی بنیادی ترین ذمہ داری دین کی حفاظت اور دین کی تبلیغ ہے اور اگر ان کو آپ کی ذمہ داریوں سے جدا کرے تو مقام نبوت اور حکومت میں فرق نہیں ہوگا ۔ امام کے لئے ضروری بنیادی صفات اور شرائط : امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ کمالات و فضائل میں سب سے افضل ہو ،جیسے عبادت ، اخلاص ، تقوی، دین داری اور دین کی راہ میں قربانی اور اخلاقی فضائل و کمالات وغیرہ میں سب پر برتری رکھتا ہو اور ہر قسم کے رزائل او...
ادامه مطلب
موت کے بعد فنا اور نابود نہیں ہونا بلکہ آخرت کی جاودانی زندگی کی طرف منتقل ہونا ہے . جہاں پر دنیا میں اچھے کام انجام دینے والے آرام اور سکون سے رہیں گے اور برے کام انجام دینے والے عذاب میں رہیں گے۔موت دنیوی زندگی سے اخروی زندگی کی طرف منتقل ہونے کا ایک پل ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے : وہ قیامت کے دن تم سب کو جمع کرے گا اور وہی ہارجیت کا دن ہوگا اور جو اللہ پر ایمان رکھے گا اور نیک اعمال کرے گا خدا اس کی برائیوں کو دور کردے گا اور اسے ان باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان ہی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے. ( سورہ تغابن / 9) دنیوی...
ادامه مطلب